تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 396
تاریخ احمدیت۔جلد 23 396 سال 1965ء چھوڑ دیا جب میں نے کہا کہ ہم فرسٹ ایئر والوں کو کوئی شکایت نہیں تو ہم کس طرح ہڑتال میں شامل ہوں تو وہ قہر کی نظروں سے دیکھنے اور دھمکانے لگے۔اس پر ہمیں بھی شمولیت کے لیے مجبور ہونا پڑا کیونکہ نہ شامل ہونے والوں کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا جاتا تھا۔پرنسپل صاحب نے جب بورڈ نگ ہاؤس سے نکال دیا تو رائے میلا رام صاحب نے ہم کو اپنی ایک کوٹھی رہنے کے واسطے دے دی۔جب ہڑتال طول پکڑ گئی تو میں نے اور شیخ عبد الحکیم صاحب بہل نے جو میرے ہم جماعت تھے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب سے پوچھا کہ داخل ہو جا ئیں یا نہ ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم کچھ نہیں کہتے بڑے گھر جاؤ اور اور پوچھ آؤ ہم رات کے دو بجے چوری چوری کوٹھی سے بھاگے اور اگلی صبح قادیان روانہ ہو گئے مسجد مبارک میں پہنچے تو اپنا ماجرا بیان کیا حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی گئی تو حضور تشریف لائے اور ہمیں مخاطب کر کے فرمایا کہ میں ہڑتال کو بغاوت خیال کرتا ہوں اگر تم لوگوں کو کچھ شکایات ہیں تو لکھ کر با ادب پیش کرو۔تم میرے مرید ہو تو واپس جاؤ اور سکول میں داخل ہو جاؤ۔ہم دونوں واپس آگئے اور اگلے دن کالج کے احاطہ کی پچھلی دیوار پر چڑھ کر اندر داخل ہوئے اور اپنے نام پھر درج رجسٹر کرائے۔سامنے پھاٹک سے اندر جانا ناممکن تھا اگر کوئی بند گاڑی میں بھی بیٹھ کر جاتا تھا تو پکٹنگ والے ڈنڈوں سے گھوڑے کو چوان اور سواریوں کا منہ توڑ دیتے تھے چند دنوں کے بعد سارے طلباء داخل ہو گئے سرغنے اور مانیٹر سکول سے نکال دیئے گئے اور پڑھائی پھر شروع ہوگئی یہ ہڑتال کامیاب ہوئی سب شکایات رفع کر دی گئیں۔مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے حسب ذیل نوٹ سپر قلم فرمایا: ابتداء میں سکول ماسٹر تھے بعد میں ذاتی محنت اور جد و جہد سے ڈاکٹری کی طرف توجہ کی اور ڈاکٹری کا امتحان پاس کر کے مشرقی افریقہ میں ۱۹۱۳ء میں پہنچے۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم کے علاوہ اور بھی کئی احمدی بزرگ اور صحابہ اس ملک میں موجود تھے۔مشرقی افریقہ میں مختلف اوقات میں کم از کم دو درجن کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اپنے کاموں کے سلسلہ میں تشریف لے گئے۔ان میں سے ہر ایک بزرگ نے اسلام کی تبلیغ اور اسلام کی اشاعت کے لیے جدوجہد میں ہر طرح اور ہر ممکن طریق سے حصہ لیا۔حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم بھی کینیا کے مختلف شہروں، کسموں، نیری، مچاکوس، ممباسہ، نیروبی اور نکورد وغیرہ میں مقیم رہے اور اس عرصہ میں سلسلہ کا لٹریچر جہاں بھی رہے تقسیم کرتے رہے اور اپنے ملنے جلنے والوں میں اسلام کی تبلیغ اور احمدیت کا تذکرہ کرتے رہے ہر