تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 395 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 395

تاریخ احمدیت۔جلد 23 395 سال 1965ء کر تم کو قرآن شریف بھی پڑھنا نہیں آتا۔آخر کار یہ تدبیر سوجھی کہ کہیں درس ہوتا ہو تو اس میں شامل ہو کرسنوں۔اس طرح میری کمزوری پر بھی پردہ پڑا رہے گا اور صحیح تلاوت بھی سیکھ جاؤں گا۔آخر کار یہی تدبیر میری ہدایت کا موجب ہوئی۔چنانچہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ سارے شہر میں آجا کر صرف ایک جگہ قرآن شریف کا درس ہوتا ہے اور وہ بھی احمدیوں کے ہاں یعنی میر حامد شاہ صاحب مغرب کی نماز کے بعد درس دیتے ہیں۔میں نے کہا کہ میری اصل غرض صحیح تلاوت سیکھنا ہے ترجمہ تفسیر اور مرزا صاحب کے بارہ میں دلائل کی طرف توجہ نہیں دوں گا۔اگلے دن جب میں احمدیہ مسجد کی طرف روانہ ہونے لگا تو آغا صاحب نے دیکھ لیا۔پوچھنے لگے۔شاہ صاحب آج تم کہاں چلے ہو۔میں نے کہا احمدیہ مسجد میں درس سننے کے واسطے جانا چاہتا ہوں۔کہنے لگے درس سُن کر تم مرزائی ہو جاؤ گے۔میں نے کہا میں نے صرف تلاوت سنی ہے۔ان کے خصوصی عقائد کی طرف دھیان نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا یا درکھو تم پر ضرور اثر ہوگا۔لہذا بہتر یہی ہے کہ تم وہاں نہ جاؤ۔اگلے دن آغا صاحب پھر باغیچہ میں ہی بیٹھے تھے۔اس لیے اس دن بھی نہ جا سکا۔تیسرے دن خوش قسمتی سے موقع مل گیا اور میں درس میں شامل ہو گیا۔آغا صاحب کو بھی پتہ لگ گیا۔لیکن انہوں نے مجھے جانے سے منع نہ کیا۔میں ہر روز بلا ناغہ درس میں شامل ہوتا رہا۔مجھے سوال یا اعتراض کرنے کی ضرورت نہ پڑی۔ترجمہ اور تفسیر سن کر میرے شکوک اور شبہات خود بخود رفع ہو گئے۔مخالفین کے سب افتراء فاسد علی الفاسد ثابت ہوئے اور میں نے انشراح صدر سے ۱۸۹۹ء میں بیعت کر لی۔ایک پادری صاحب نے جو ہمیں انجیل پڑھایا کرتے تھے۔مجھے بہکانے کی بہت کوشش کی۔لیکن میں اپنے سلسلہ کا لٹریچر پڑھ کر ان کے قابو میں نہ آیا۔بلکہ ان کو لا جواب کر دیا۔آخر کار ایک دن کہنے لگے کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے تم مرزائی ہو گئے ہو۔میں نے کہا ہاں! وہی لوگ تو ہیں جن کے سامنے تم لوگ نہیں ٹھہر سکتے۔766 46 حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ :۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات طیبات جو حضرت کی زبان مبارک سے سنے کی نسبت کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۱۹۰۶ء میں جب میں بلوچستان سے سکول ماسٹری چھوڑ کر لاہور میڈیکل سکول میں داخل ہونے کے لیے آیا تو داخلہ ہو چکا تھا لیکن ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کی سفارش سے ڈاکٹر پیری نے ملٹری کلاس میں داخل کرنا منظور کر لیا پڑھائی شروع ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ سیکنڈ تھرڈ اور فورتھ ایئر والوں نے بعض شکایات کی وجہ سے ہڑتال کر دی اور سکول جانا