تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 359 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 359

تاریخ احمدیت۔جلد 23 359 سال 1965ء ایڈووکیٹ ( مغربی تہذیب کا بڑھتا ہوا اثر اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ) ،مولانا جلال الدین صاحب شمس ( اسلام کا عالمگیر غلبہ ) ، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج عالمی عدالت ہیگ 208 (اشاعت اسلام کے وسائل ) اسی تقریر کے آخر میں آپ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک فرمائی۔(۲۰ دسمبر ) جناب قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے سابق صدر شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اسلام اور دنیا کے دیگر مذاہب)، صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی زندہ نبی ہیں ) ، شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مغربی افریقہ (حقیقت جہاد )۔(۲۱ دسمبر ) مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری (اسلامی عقائد )، جناب عبدالستار صاحب سوقیہ جنرل پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ ماریشس ماریشس میں تبلیغ احمدیت ) ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ (افریقہ میں تبلیغ اسلام )۔یہ سب پر از معلومات اور عالمانہ وفاضلانہ تقریر میں اپنے اپنے موضوع کے اہم پہلوؤں پر حاوی اور دلنشین تھیں۔جو اوّل سے آخر تک گہری توجہ اور کامل دلچسپی سے سنی گئیں۔خدائی نصرتوں کا غیر معمولی اجتماع 209 الغرض خلافت ثالثہ کا یہ پہلا مبارک جلسہ تاریخ احمدیت میں ایک نئے سنگ میل کی حیثیت سے ہمیشہ یادگار رہے گا۔یہ تاریخی جلسہ اپنے دامن میں عظیم الشان نفرتوں اور کامرانیوں کو سمیٹے ہوئے شروع ہوا اور کامیابیوں کے نئے دروازے کھول کر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو گیا۔متعدد مشکلات اور قسما قسم کی دقتوں کے باوجود ( جن کی موجودگی میں اس اجتماع کی کامیابی کے امکانات بہت مخدوش نظر آ رہے تھے ) خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ جلسہ ہر لحاظ اور ہر جہت سے خارق عادت طور پر کامیاب رہا۔شمع احمدیت کے پروانوں کا ہجوم، غیر از جماعت احباب کی بکثرت آمد، بلند پایہ اور علمی تقاریر، پریس اور ریڈیو کی غیر معمولی دلچسپی، انتظامات جلسہ کا معیاری رنگ اور سب سے بڑھ کر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی وجد انگیز ، روح پرور اور انقلاب انگیز تقریریں اور فضل عمرفاؤنڈیشن کا قیام اس جلسہ کی ایسی خصوصیات ہیں جن کی یاد قلوب واذہان میں ہمیشہ تازہ رہے گی۔یہ جلسہ احمدیت کی صداقت کا ایک تازہ اور خارق عادت نشان تھا جس کے اندر خدائی نصرتوں کے بہت ایمان افروز نظارے ہزاروں نفوس نے بچشم خود دیکھے۔اس جلسہ نے ثابت کر دیا کہ اسلام