تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 358
تاریخ احمدیت۔جلد 23 ملے گا۔206- 358 سال 1965ء مقررین نے حضور کی تقریر کے اقتباس کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ سنایا۔جن غیر ملکی اصحاب اور غیر ملکی طلبہ نے اس پروگرام میں حصہ لیا ان کے اسماء یہ ہیں۔ماریشس کے عبدالستار سوکیہ اور جناب احمد شمشیر سوکیہ ،گھانا مغربی افریقہ کے جناب یوسف یاسن ، جناب عبدالمالک اور جناب عبد الواحد، یوگنڈا مشرقی افریقہ کے جناب احمد وا سوا کز نیٹو انڈونیشیا کے جناب حسن بصری ، جناب سفنی ظفر، اور جناب عبدالکریم غنی چین کے جناب محمد عثمان اور جزائر فجی کے جناب عبدالرؤف۔یہ اجلاس اس حقیقت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی یہ بشارت کہ: میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ 207 بڑی شان سے پوری ہوئی ہے اور اشاعت اسلام کے نظام کے وسیع سے وسیع تر ہونے کے ساتھ روز بروز پوری ہوتی چلی جارہی ہے چنانچہ اس میں شمولیت احباب کے لئے بہت از دیاد ایمان کا موجب ہوئی اور انہوں نے بہت ذوق وشوق اور گہری دلچسپی کے ساتھ اس کی کارروائی کوسن کر اپنے ایمانوں کو تازہ کیا۔آخر میں تحریک جدید کی اہمیت سے متعلق سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ایک پر معارف تقریر کا ریکارڈ بھی سنایا گیا۔حضور کی تقریر خود حضور ہی کی آواز میں سُن کر احباب پر ایک وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔انہوں نے یہ تقریر محبت و حقیقت کے بے پناہ جذبات سے سرشار ہوکر کمال محویت کے عالم میں سنی جو ان کے لئے بہت از دیا ایمان اور ازدیاد علم وعرفان کا موجب ہوئی۔بزرگان سلسلہ اور فاضل علماء کی حقیقت افروز تقاریر سلسلہ احمدیہ کے جن بزرگوں اور فاضل علماء نے اس موقع پر جلسہ سے خطاب فرمایا۔اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔(۱۹دسمبر ) حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ( تحریری پیغام۔آپ کا پیغام مولانا جلال الدین صاحب شمس نے پڑھ کر سنایا ) ، مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام)، شیخ محمد احمد صاحب مظہر ( حضرت مسیح موعود کی قوت قدسیہ )، مرزا عبدالحق صاحب