تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 18
تاریخ احمدیت۔جلد 23 18 سال 1965ء ڈال دو کہ بارش وغیرہ سے آرام ہو۔خدا تعالیٰ تکلفات کو پسند نہیں کرتا“۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔غرضیکہ ہر جماعت کی اپنی مسجد ہونی چاہیئے۔جس میں اپنی جماعت کا امام ہو اور وعظ وغیرہ کرے اور جماعت کو چاہیئے کہ سب مل کر اسی مسجد میں نماز با جماعت ادا کیا کریں۔جماعت اور اتفاق میں بڑی برکت ہے۔پراگندگی سے پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ وقت ہے کہ اس وقت اتحاد اور اتفاق کو بہت ترقی دینی چاہیئے۔اور ادنی ادنی باتوں کو نظر انداز کر دینا چاہیئے۔تو مسجد کے متعلق جو تجویز ہے بڑی اہم ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر نمائندگان اپنے گھروں میں جا کر یہ کوشش کریں کہ جہاں مسجد نہیں وہاں فوری طور پر حضور کی اس ہدایت کے مطابق ایک مسجد تیار ہو جائے۔زمین گھیر لیں۔کوئی چھپر ڈال لیں۔آپ کے کاموں میں خدا تعالیٰ برکت ڈالے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے طفیل۔سندھ کی زمین کی آمد کے متعلق میں مختصر طور پر ہی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔تفصیل میں نہیں جانا چاہتا وہ یہ ہے کہ ایک کمیٹی زراعت حضور نے منظور فرمائی ہے وہ زیادہ تفصیل میں جائے گی۔لیکن ایک خوشخبری میں ضرور سنا دینا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ اس علاقہ میں عنقریب ایک شوگرمل مکمل ہو رہی ہے۔اور جب وہ مکمل ہو جائے گی تو ہمیں امید ہے کہ ہماری سندھ کی زمینوں کی آمد زیادہ نہیں تو کم از کم تین چار گنا بڑھ جائے گی۔آپ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس شوگر مل کو ہمارے لئے ہی بنائے اور اس میں ہمارے لئے برکت کے سامان بنائے اور اس سے جماعت کی ترقی اور بیرونی ممالک میں اشاعت اسلام کے سامان زیادہ سے زیادہ برکتوں کے ساتھ اور اس کی رحمتوں کے ساتھ پیدا ہوں۔مظفر گڑھ کے ایک دوست نے فرمایا تھا کہ ہمارے ہاں دو ضلعوں میں ایک مربی ہے۔یہ مسئلہ ہم سے اتنا تعلق نہیں رکھتا۔رکھتا تو ہے ضرور لیکن اتنا تعلق نہیں رکھتا جتنا آپ دوستوں سے اور باہر کی جماعتوں سے تعلق رکھتا ہے۔میں بڑے دردمند دل کے ساتھ آپ کو یہ حقیقت بتاتا ہوں کہ آئندہ دس سال کے عرصہ میں بھی ایک ہی مبلغ رہے گا۔اس لئے کہ آپ اپنے بچے وقف ہی نہیں کر رہے۔اس وقت جامعہ احمدیہ (جو مربیوں اور مبلغوں کو تیار کرتا ہے) کی آخری کلاسوں میں (جو چار پانچ سال سے ہمیں نظر آ رہا ہے ) طلبہ کی تعداد اتنی کم ہے کہ ہم اس پر غور کرتے ہیں تو کانپ اٹھتے ہیں۔اس کا