تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 17
تاریخ احمدیت۔جلد 23 17 سال 1965ء بہت بڑا کام ہے لیکن یہ ایک مسودہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اس پر نظر ثانی کے بعد چھپ جائے گا۔مجھے امید ہے کہ آئندہ جلسہ سے پہلے پہلے انشاء اللہ اس کی طباعت اور اشاعت ہو جائے گی۔دوست اس کے متعلق زیادہ فکر نہ کریں۔ایک تجویز بڑی ہی اہم یہ پیش کی گئی ہے کہ مساجد کی طرف جماعت کو توجہ دینی چاہیئے اس سلسلہ میں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس دوستوں کو سنانا چاہتا ہوں ، ملفوظات جلد ۴ صفحه ۹۳ میں حضور فرماتے ہیں اور یہ بڑا اہم ارشاد ہے اس کو بھولیں نہیں کبھی بھی۔حضور نے فرمایا :۔اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مساجد قائم ہوگئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہوتو وہاں ایک مسجد بنادینی چاہیئے۔پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد کی نیت بہ اخلاص ہو محض اللہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہرگز دخل نہ ہو۔تب خدا برکت دے گا۔پھر حضور فرماتے ہیں:۔یہ ضروری نہیں ہے کہ مسجد مرقع اور پکی عمارت کی ہو“۔مجھ پر یہ تاثر ہے کہ ہر جگہ نہیں لیکن بعض جگہ یہ سمجھا جانے لگا ہے اور بعض دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ مسجدان کی ضرورت اور ان کی استطاعت سے بھی زیادہ بڑی اور زیادہ شاندار ہونی چاہیئے۔مسجد کی اینٹیں ہماری شان بلند نہیں کرتیں۔وہ تقویٰ ہماری شان بلند کرتا ہے جس تقویٰ کی بنیاد پر مسجد کی دیوار میں اٹھائی جاتی ہیں۔مثلاً سیالکوٹ کے ایک ضلع سے بار بار اصرار کے ساتھ یہ مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ ہم تین یا چار افراد ہیں جماعت کے، اس لئے مسجد بنانے کا بوجھ اٹھا نہیں سکتے۔صدرانجمن احمدیہ ہمیں چھ ہزار روپے دے تا کہ ہم پکی مسجد بناسکیں۔حالانکہ وہاں کچھی مسجد بنا کر ان ضرورتوں کو پورا کیا جاسکتا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی یادر کھنے کے قابل ہے:۔یہ ضروری نہیں ہے کہ مسجد مرقع اور پکی عمارت کی ہو۔بلکہ صرف زمین روک لینی چاہیئے اور وہاں مسجد کی حد بندی کر دینی چاہیئے اور بانس وغیرہ کا کوئی چھپر وغیرہ