تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 19
تاریخ احمدیت۔جلد 23 19 سال 1965ء علاج دو طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ایک یہ کہ آپ اپنے دل میں زیادہ جرات پیدا کریں وقف کے لئے۔اپنے بچوں کی اٹھان اس طرح کریں کہ وہ خود اپنی زندگیاں وقف کرنے کا عزم پیدا کریں تا یہ اعتراض پھر بعد میں نہ ہو کہ بعض آتے ہیں پھر بھاگ جاتے ہیں۔جو بچہ اپنے طور پر اپنے تمام حالات کو سمجھتے ہوئے زندگی وقف کرتا ہے اس کے دوڑنے کا سوال نہیں پیدا ہوسکتا۔کیونکہ جب بشاشتِ ایمان دل میں پیدا ہو جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ شخص پھر ہلاک نہیں ہوتا۔اور دوسرے یہ کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ ہماری جماعت میں کوئی مبلغ نہ تھا لیکن ہمارے مخالفین میں علماء بکثرت تھے مجھے بڑا لطف آتا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ عبارت پڑھتا ہوں جس میں آپ فرماتے ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں مولوی میرے خلاف اکٹھے ہو گئے اور ہر طرف سے شورش بر پا ہوگئی تو گو اس وقت اس زمانہ کی طرح ہمارے مبلغ نہ تھے لیکن ہر ایک احمدی مربی اور مبلغ تھا۔جو اپنے نیک نمونہ کی وجہ سے مجسم تبلیغ تھا۔پس ہماری جماعت کے ہر ایک فردکو اپنے اندر صحابہ کا سا ایمان اور یقین پیدا کرنا چاہیئے اور نیکی اور تقویٰ کی زندہ تصویر ہونا چاہیئے۔پھر اس کے دل میں ہمدردی اور غم خواری ہو۔اگر اس کو یہ یقین ہو کہ ہر وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتا وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کے نیچے اپنی گردن رکھ رہا ہے۔اگر آپ چاہتے ہوں کہ وہ خدائی قہر سے بچ جائے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ خدا کے غضب کے نیچے نہ آئے تو آپ کا فرض ہے کہ آپ اس کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں۔اور آپ کے دل کو اطمینان نہ ہو اور آپ اپنے گھروں میں آرام سے نہ بیٹھیں کیونکہ آپ کو نظر آ رہا ہے کہ یہ لوگ کدھر جارہے ہیں اور ہماری محبت اور ہمارے دل میں جو ہمدردی اور غم خواری کا جذبہ ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی مددکو آئیں اور ان کو ڈوبنے سے بچائیں کیونکہ وہ ڈوب رہے ہیں۔اور ان کو جہنم کی آگ سے بچائیں کیونکہ ان کے اعمال ان کو جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں ایک اور ہدایت بھی فرمائی ہے۔وہ میں دوستوں کے سامنے جو دو تین فقرے ہیں پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ تبلیغ تو کرنی ہے لیکن یہ یاد رکھو پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔اور جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو یہ میری نصیحت ہے اس کو یا درکھو۔اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے“۔