تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 346 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 346

تاریخ احمدیت۔جلد 23 346 سال 1965ء جس سے اُن بے پناہ جذبات عقیدت و فدائیت کا پتہ چلتا تھا۔جو حضرت مصلح موعود کی خدا نما شخصیت کے لئے مخلصین جماعت کے دلوں میں بحرز خار کی طرح موجزن تھے۔ایک عظیم الشان خوشخبری حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنی اختتامی تقریر میں اللہ تعالیٰ کے پیہم نازل ہونے والے فضلوں اور اس کے ان گنت احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا، جو اسی سال آزاد ہوا ہے، کے قائمقام گورنر جنرل کی تقرری کے لئے چار نام پیش ہوئے تھے ان چار ناموں میں سے جناب الحاج ایف ایم سنگھیٹے (سنگھائے ) کا بطور قائمقام گورنر جنرل تقرر منظور ہوا ہے۔جو وہاں کے مشہور قومی لیڈر ہونے کے علاوہ نہایت مخلص احمدی ہیں۔اور جماعت احمد یہ گیمبیا کے پریذیڈنٹ ہیں۔یہ خوشخبری سنکر احباب پر ایسی ابتزاز کی کیفیت طاری ہوئی کہ فرطِ مسرت سے جھوم اُٹھے۔وہ خلافت ثالثہ کے نئے مبارک دور کے خوشکن آغاز اور اس میں ملنے والی اس مسترت انگیز خبر پر ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدات شکر بجالائے۔اور انہوں نے جذباتِ تشکر سے لبریز ہو کر اللہ اکبر احمدیت زندہ باد، حضرت خلیفہ اسیح الثالث زندہ باد کے پُر جوش و فلک شگاف نعرے عجیب والہانہ انداز میں بلند کئے۔جس سے ربوہ کی ساری فضا ایک بار پھر اللہ تعالیٰ کی تحمید و تمجید سے گونج اُٹھی۔پھر ایک اور مسرت انگیز خبر جو احباب کے لئے اور بھی از دیا ایمان وایقان کا موجب ہوئی ، یہ تھی کہ خلافت ثالثہ کے قیام کے بعد سے جلسہ سالانہ ۱۹۶۵ء تک کے مختصر سے عرصہ میں بیرونی ملکوں سے پچاس افراد کے قبول احمدیت کی اطلاع موصول ہوئی۔یہ خوشخبریاں غلبہ دین کے متعلق اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ایمان کو پختہ سے پختہ تر کرنے اور خدمت دین کے عزائم اور حوصلوں کو بلند سے بلند تر کرنے کا موجب بنیں۔120 احمدی خواتین کا جلسہ سالانہ احمدی خواتین کا جلسہ سالانہ مورخہ ۱۹ دسمبر کو شروع ہو کر دعاؤں اور ذکر الہی کے روح پرور ماحول میں تین روز تک جاری رہ کر مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۶۵ء کو نہایت کامیابی اور خیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اس جلسہ میں صدارت کے فرائض مختلف اوقات میں حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ محترمہ سیده نصیرہ بیگم صاحبہ اور محترمہ مجیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری شاہنواز صاحب نے انجام دیئے۔