تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 347 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 347

تاریخ احمدیت۔جلد 23 347 سال 1965ء حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا رُوح پر ور افتتاحی خطاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لخت جگر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے احمدی خواتین کے جلسہ سالانہ پر حسب ذیل افتتاحی خطاب فرمایا۔«اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یہ جلسہ پہلا جلسہ ہے جس میں آپ سب بہنیں اپنے محبوب خلیفہ مصلح موعود کی جدائی کے بعد شامل ہورہی ہیں۔گو وہ ایک عرصہ سے خود تشریف لا کر بظاہر شرکت جلسہ نہیں فرماتے تھے مگر ان کی برکات ان کی دُعائیں ہر لمحہ آپ کے شامل حال ہوتی تھیں اور انکے وجود کا اس دنیا میں اور اس شہر میں موجود ہونا ہی بڑی خوشی اور تسکین کا موجب ہوتا تھا۔اس وقت ہم سب کے دل آپ کی فرقت کو بیشک بہت دُکھ سے محسوس کر رہے ہیں اور قدرتنا غمگین ہیں مر اللہ تعالیٰ کے احسان و کرم کو دیکھ کر اور اس پہلوکو سوچ کر خوشی بھی اس غم میں شامل ہے اور ہونی چاہئیے کہ اس نے کیسا فضل فرمایا ہے کہ بغیر کسی اختلاف و شقاق کے خلافت کا قیام فرمایا اور ہم سب کو ایک ہاتھ پر جمع فرما دیا۔شماتت اعداء سے جماعت کو بچالیا اور قدرت ثانیہ کے سلسلہ کو تیسری بار پھر بہت بابرکت بنا کر اپنی نصرت سے جاری فرما کر ہمارے زخمی دلوں پر رحمت کا ہاتھ رکھ کر سکون بخشا۔اس احسان کو یاد رکھیں اور دعاؤں میں مشغول رہیں کہ خدا تعالیٰ تمام جماعت کو نیکی اور تقویٰ میں ترقی بخشے ہمارے دلوں اور گھروں میں نیکی تقوئی اور ایمان کامل کے بیج بودے اور بدیوں ، ناپاکیوں ، بداخلاقیوں سے پاک فرمائے ہم ایسے نیک نمونے احمدیت کے بنیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو جس مقام پر بھی ہوں دیکھ کر ہی لوگ احمدیت کی طرف مائل ہوتے جائیں۔تبلیغ محض اتنا اثر نہیں کر سکتی جب تک نمونہ اعلیٰ اخلاق اور اعمال صالح کا دُنیا کو نظر نہ آجائے۔پس نیکیوں میں اخلاق حسنہ میں ترقی کریں۔کوشش اصلاح نفس اور دُعا سے نصرت طلب کرنے کے ساتھ کہ وہ آپ کو ایسا ہی نمونہ بنادے کہ جیسا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمنا اور اس ابھی تازہ رخصت ہونے والے آپ کے پیارے خلیفہ کی خواہش اور تڑپ تھی۔اور ان ارواح پاک کو بشارتیں ہی اللہ تعالیٰ پہنچاتا رہے۔