تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 313
تاریخ احمدیت۔جلد 23 313 سال 1965ء مناسب نہ سمجھا کہ میں اس وقار عمل میں حصہ لینے سے محروم رہوں۔پس میں تو اپنی محبت اور شوق سے اس میں شامل ہوا تھا۔اور آخری وقت تک کام کرتا رہا۔اگر میں حلقہ تو ڑ کر نہ جاتا تو گاڑی نہ ملتی اور جماعتی کام کو نقصان پہنچتا۔ان کی اس معذرت خواہی کو سن کر میں مسکرایا اور کہا کہ میں نے آپ کی شکایت نہیں کی۔شکایت تو آخری مرحلہ ہے۔اگر آپ غلطی کرتے تو پہلے میں خود آپ کو سمجھا تا اور اگر میں سمجھتا کہ سمجھانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تب میں آپ کی شکایت کرتا۔یہ مثال بیان کرنے سے میرا مطلب یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے دلوں میں وقار عمل کا بڑا شوق اور جذبہ تھا۔وقار عمل کے پیچھے جو روح ہے وہ اسلام کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔اور وہ یہ کہ کسی جائز کام کرنے سے ہمیں عار نہیں۔اور یہ روح کوئی معمولی چیز نہیں۔یہ عادت ایسی ہے کہ دنیا اسے دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے۔اور پھر اکثر امور میں انسان کسی دوسرے کا محتاج نہیں رہتا۔اور جہاں تک اور جس وقت اور جو کام وہ اپنے ہاتھ سے کر سکتا ہے۔وہ کبھی برداشت نہیں کرتا کہ کوئی اور شخص یہ کام اس کے لئے کرے۔میں حضرت (اماں جان) کی تربیت میں رہا ہوں اور چھٹین کے زمانہ سے ہی میں نے خاص طور پر یہ نوٹ کیا ہے کہ بیماری کے دنوں میں بھی جب آپ کو پیاس لگتی تو تین چار خادمائیں موجود ہونے کے باوجود اٹھ کر خود جاتیں اور پانی کا گلاس بھرتیں اور پی لیتیں ، بعض دفعہ یہ دیکھ کر ہمیں تکلیف بھی ہوتی کہ آپ کمزور ہیں بیمار ہیں کیوں ایسا کرتی ہیں۔لیکن وہ کہتی تھیں کہ طاقت رکھتے ہوئے کیوں میں کسی دوسرے سے ایسا کام کرواؤں۔بچپن کا یہ سبق میری طبیعت میں غیر شعوری طور پر راسخ رہا۔“ حضور نے اپنے خطاب کے آخر پر فرمایا: یہی چیزیں سکھانے کے لئے خدام الاحمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔پس جس غرض سے خدام الاحمدیہ کو قائم کیا گیا ہے اس غرض کو مد نظر رکھ کر اپنے عمل ، اپنی ادا، اپنے فکر اور تدبر کے طریق کو اس طرح ڈھالیں کہ آپ سمجھیں نہ سمجھیں لیکن غیر یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ یہ احمدی لوگ ہم سے بہت اونچے اور بہت بلند ہیں۔ان کی قیادت