تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 312
تاریخ احمدیت۔جلد23 312 سال 1965ء بعض چشم دید واقعات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ابتدا میں خدام الاحمدیہ کے پاس سامان نہیں ہوتا تھا۔ہم محلے میں مختلف دوستوں سے کدالیں ، ٹوکریاں وغیرہ جمع کرتے اور ان پر نشانی لگا لیتے اور وقار عمل کے بعد پھر انہیں واپس پہنچا دیتے تھے۔اس لئے وقار عمل کے بعد بھی کئی گھنٹے تک مجھے وہاں ٹھہر نا پڑتا تھا۔تا کہ کوئی چیز ضائع نہ ہو۔اس سے عزت اور اعتماد قائم رہتا ہے۔اگر کوئی چیز ضائع ہو جاتی یا ٹوٹ جاتی تو ہم اسکی قیمت ادا کر دیتے تھے۔پھر آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے یہ توفیق بخشی کہ کئی سو کرالیں اور کئی سوٹو کریاں جو وقار عمل کے لئے ضروری تھیں خدام الاحمدیہ نے خود خرید لیں۔وقار عمل میں حصہ لینے کیلئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی بسا اوقات خود بھی تشریف لاتے۔کدال کا استعمال کرتے اور ٹوکری بھی اٹھاتے تھے۔وہ ایک عجیب سماں ہوتا اور ساری جماعت اس سے حظ اُٹھا رہی ہوتی تھی۔اور ان حالات میں کوئی شخص بھی اپنے گھر بیٹھے رہنے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ایک جذبہ تھا۔جو قادیان کےسارے احمدیوں میں پیدا ہو جاتا۔اور وہ اپنے ضروری کا روبار کو چھوڑ کر بھی وقار عمل میں حصہ لینے کے لئے نکل پڑتے جن لوگوں کو لاہور جانا ہوتا اور وہ صرف آدھا گھنٹہ کام کر سکتے تو وہ آدھ گھنٹہ کے لئے ہی آجاتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہم نے دار الانوار میں وقار عمل منایا۔اس دن محترم ملک غلام فرید صاحب نے ریویو کی طباعت کے سلسلہ میں لاہور جانا تھا۔گاڑی چلنے سے پہلے ان کے لئے صرف نصف گھنٹہ تک وقار عمل میں حصہ لینے کا موقع تھا۔وہ آکر شامل ہو گئے۔جب وہ آدھ گھنٹہ کے بعد جانے لگے۔تو ہمارے نوجوانوں میں سے بعض نے انہیں روکا کہ آپ باہر کیوں جارہے ہیں؟ انہوں نے اسے دھکا دیا۔اور چلے گئے۔میرے پاس شکایت پہنچی تو میں نے سوچا کہ انہیں واقعی کوئی ضروری کام ہوگا۔ورنہ وہ نہ جاتے۔اور وہ تھے بھی انصار میں سے۔لیکن ان کو خوف لاحق ہوا کہ میں کہیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں ان کی شکایت نہ کر دوں وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ یہ حالات تھے۔مجھے صرف آدھ گھنٹہ کا وقت ملتا تھا۔میں نے