تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 314
تاریخ احمدیت۔جلد 23 314 سال 1965ء ہمارے لئے فخر کا باعث ہے۔اور ان کے پیچھے چلنا ہمارے لئے عزت کا موجب ہے اگر آپ لوگ احمدیت کا یہ رُعب اور اثر قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انشاء اللہ دنیا خود بخود احمدیت کی طرف ھنچتی چلی آئے گی اور خدائے تعالیٰ نے جو فیصلہ آسمان پر کیا ہے وہ زمین پر بھی عملاً ہمیں پورا ہوتا نظر آئے گا۔حضرت سیدہ مہر آیا صاحبہ کا شکریہ احباب اور درخواست دعا الفضل مورخہ یکم دسمبر ۱۹۶۵ء کے صفحہ پر حضرت سیدہ بشری بیگم مہر آپا صاحبہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا درج ذیل مکتوب شائع ہوا۔«اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر عزیز ترین احباب جماعت ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته حضرت مصلح موعود خلیفتہ ایسیح الثانی کے وصال پر جس کا كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن (۲۸) کے مطابق واقع ہونا ایک دن مقدر تھا آپ سب میں سے ہزاروں نے خود آ کر مجھ سے تعزیت فرمائی جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اسی طرح اس ضمن میں سینکڑوں تاریں ، خطوط اور ریزولیوشن بھی وصول ہو چکے ہیں اور ہورہے ہیں۔آپ سب کے اس اظہارِ خلوص و محبت اور ہمدردی پر میرا مغموم ومهجور دل بے اختیار آستانہ الوہیت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہزاروں سلام اور درود بھیجتے ہوئے جھک جاتا ہے۔آپ ہی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے باہمی محبت و خلوص کا بیج بویا ہے اور آج آپ ہی کی برکت سے ہر احمدی ایک دوسرے کے لئے بے لوث محبت رکھتا ہے۔ہزاروں ہزار سلام اُس محسن پر جس کے طفیل ہمیں یہ انعام ملا۔الحمد للہ علی ذالک حضرت مصلح موعود خلیفہ المسیح الثانی کو جماعت کے ہر فرد سے اس قدر گہری محبت اور عشق تھا کہ بعض اوقات یہ محبت، یہ تعلق اپنے بیوی بچوں پر بھی سبقت لیجا تا ہوا نظر آتا۔اس روحانی اولاد کی فلاح