تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 311 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 311

تاریخ احمدیت۔جلد 23 311 سال 1965ء اہالیان ربوہ کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو طاقت رکھتے ہوئے بھی اپنی خدمات کو رضا کارانہ طور پر پیش نہ کرے۔بے شک بعض مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔پس جہاں تک جائز مجبوری اور ضرورتوں کا تعلق ہے کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے اور باوجود یہ کہ آپ ان مجبوریوں کی وجہ سے اس خدمت سے محروم ہوجائیں پھر بھی اپنے فضلوں میں آپ کو برابر کا شریک ٹھہرالے۔لیکن جن کو کوئی مجبوری نہیں ان میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ جلسہ کے لئے اپنی خدمات کو پیش کرے۔66 اس ولولہ انگیز خطبہ نے پوری جماعت خصوصاً اہل ربوہ میں زبر دست جوش وخروش پیدا کر ڈالا اور اسی ہزار سے زائد فدائی ربوہ کی مقدس سرزمین میں جمع ہو گئے۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا خدام الاحمدیہ سے خطاب اسی روز سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کے عہد یداران کے ریفریشر کورس کے موقعہ پر جامعہ احمدیہ ہال میں ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء کو خدام الاحمد یہ ربوہ سے پہلی بار خطاب فرمایا۔جس میں نو جوانانِ احمدیت کو نہایت پُر زور الفاظ میں تلقین فرمائی کہ خدام الاحمدیہ اس لائحہ عمل کو اپنائے جو حضرت مصلح موعود نے اُن کے سامنے رکھا تھا نیز بتایا کہ احمدیت کو ایسے خدام کی ضرورت ہے جن کے دلوں میں اسلام کی محبت رچی ہو۔اپنے عمل، اپنی ادا، اپنے فکر اور اپنے تدبر کو احمدیت کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرو۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ خدام الاحمدیہ سے متعلق حضرت مصلح موعود کے خطبات وارشادات کتابی شکل میں شائع کئے جائیں۔(چنانچہ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے مشعل راہ کے نام سے ایک مبسوط کتاب ۱۹۷۰ء میں شائع کرنے کی سعادت پائی۔) حضور نے اپنے خطاب میں وقار عمل کی اہمیت و ضرورت اور افادیت پر بھی خاص زور دیا۔اور تاکیدی ہدایت فرمائی کہ وقار عمل جس رنگ اور جس شکل میں اور جس جذبہ اور ذوق وشوق کے ساتھ قادیان میں منایا جاتا تھا۔اسی جوش و خروش کے ساتھ اب بھی منایا جانا چاہئیے۔اس ضمن میں حضور نے