تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 310 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 310

تاریخ احمدیت۔جلد 23 310 سال 1965ء لینے والے ہوں۔اور اس میں شک نہیں کہ اس کے لئے آپ کو اس سال زیادہ مالی قربانی دینی پڑے گی لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مالی قربانی کئے بغیر آپ ان فضلوں کے وارث بھی نہیں بن سکتے جن فضلوں کا وارث آپ کو خدا تعالیٰ بنانا چاہتا ہے۔وہ دن قریب ہیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو خارق عادت طور پر ترقی بخشے گا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوں گے لیکن ان دنوں کو قریب تر لانے کے لئے ہمیں بھی بہت کچھ قربانیاں دینی ہوں گی۔جب قربانی کا لفظ منہ سے نکلتا ہے تو شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ جو کچھ خدا سے ہمیں ملا اس میں سے ایک حصہ کو پھر اسی کی طرف واپس لوٹا دینے کو ہم کس منہ سے قربانی کہہ سکتے ہیں؟ بہر حال جو کچھ اس نے ہمیں دیا ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیئے کہ اسکے حضور ہم واپس کر دیں اور اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں خرچ کر دیں اپنے اوقات عزیزہ کو بھی، اپنے مالوں کو بھی ، اپنی دلچسپیوں اور خواہشات کو بھی اور اپنے آراموں کو بھی۔تاہم اس کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں۔اوّل تو تمام جماعت کو جوا کناف میں پھیلی ہوئی ہے آج میں یہ پیغام دیتا ہوں کہ خدا کے فضلوں کو جذب کرنے کے لئے آپ اپنے سالانہ جلسہ پر ضرور آئیں۔ممکن ہو اور جہاں تک اللہ تعالیٰ آپ کو طاقت اور استطاعت بخشے آپ اس میں شمولیت کی کوشش کریں۔دوسرے میں ان احباب جماعت کی خدمت میں جور بوہ سے باہر رہتے ہیں یہ کہتا ہوں کہ اب جلسہ کے ایام میں مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ربوہ کے رضا کا راس تمام کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام نہیں دے سکتے۔اس لئے اے نو جوانانِ احمدیت ! اے خدام الاحمدیہ جلسہ کے کام کے لئے اپنی خدمات پیش کرو اور بطور رضا کار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کرو۔ان دنوں میں دراصل کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کون میزبان اور کون مہمان ہے۔کیونکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہم سب ہی مہمان ہیں اور ہمارا میز بان اللہ کا وہ صحیح ہے جس نے اس لنگر کو جاری کیا جہاں خدا کے فرشتوں کی لائی ہوئی روٹی تقسیم ہوتی ہے۔