تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 273
تاریخ احمدیت۔جلد 23 273 سال 1965ء جاتے ہو مری جان خدا حافظ و ناصر والی بنو امصار علوم دو جہاں کے اللہ نگہبان خدا حافظ و ناصر ائے یوسف کنعان خدا حافظ و ناصر پہرہ ہوفرشتوں کا قریب آنے نہ پائے سر پاک ہواغیار سے دل پاک نظر پاک ڈرتا رہے شیطان، خدا حافظ و ناصر اے بندہ سبحان خدا حافظ و ناصر محبوب حقیقی کی امانت“ سے خبردار انگلستان کا زمانہ قیام اے حافظ قرآن خدا حافظ و ناصر ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ستمبر ۱۹۳۴ء سے لے کر نومبر ۱۹۳۸ء تک انگلستان میں قیام پذیر رہے۔اس دوران آپ ایک بار جولائی ۱۹۳۶ء میں قادیان تشریف لائے اور ۷ استمبر کو واپس انگلستان تشریف لے گئے۔انگلستان میں آپ آکسفورڈ سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ تبلیغ اسلام میں بھی مصروف رہے ایک رسالہ الاسلام بھی جاری فرمایا اور واپسی پر مصر میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ قیام فرمانے اور عربی تہذیب و تمدن اور طرز تعلیم وغیرہ کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ ۹ نومبر ۱۹۳۸ء کو بانیل مرام واپس قادیان دارالامان تشریف لائے۔جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کی حیثیت سے یورپ سے آتے ہی آپ جامعہ احمدیہ کے پروفیسر مقرر کئے گئے۔حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب کے ریٹائر ڈ ہونے پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے آپ کو جامعہ احمدیہ کا پرنسپل مقررفرمایا۔پھر جون ۱۹۳۹ء سے اپریل ۱۹۴۴ء تک احمدیت کا یہ مرکزی ادارہ آپ کی نگرانی میں ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔در مجلس خدام الاحمدیہ کی صدارت و نائب صدارت فروری ۱۹۳۹ء سے لے کر اکتوبر ۱۹۴۹ء تک آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر رہے اور اکتوبر ۱۹۴۹ء سے نومبر ۱۹۵۴ء تک نائب صدر کا عہدہ سنبھالا جبکہ اس دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثانی بنفس نفیس صدر تھے۔آپ نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی زیر نگرانی نوجوانان احمدیت کے محبوب