تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 272
تاریخ احمدیت۔جلد 23 272 سال 1965ء ۵ اگست ۱۹۳۴ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی بھی مالیر کوٹلہ میں رونق افروز ہوئے اور یہ مقدس قافلہ ۶ را گست ۱۹۳۴ء کو قادیان واپس پہنچ ؟ سفرانگلستان حضرت خلیفتہ اسی الثانی کے حکم سے آپ ستمبر ۱۹۳۴ء کو انگستان تشریف لے گئے۔حضرت خلیفہ اسی الثانی نے اس موقعہ پر آپ کو اپنے دست مبارک سے مفصل اہم اور ضروری نصائح تحریر فرما کر دیں۔ابتدائی نصیحت یہ تھی کہ: میں تم کو انگلستان بھجوا رہا ہوں اس غرض سے جس غرض سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیھم کو فتح مکہ سے پہلے مکہ بھیجوایا کرتے تھے۔میں اس لیے بھجوا رہا ہوں کہ تم مغرب کے نقطہ نگاہ کو سمجھو تو اس زہر کی گہرائی کو معلوم کرو جو انسان کے روحانی جسم کو ہلاک کر رہا ہے تم ان ہتھیاروں سے واقف اور آگاہ ہو جاؤ جن کو دجال اسلام کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔غرض تمہارا کام یہ ہے 66 کہ تم اسلام کی خدمت کے لئے اور دجالی فتنہ کی پامالی کے سامان جمع کرو۔“ آخر میں سب نصیحتوں کا خلاصہ حضور ہی کے الفاظ میں یہ تھا کہ : ”خدا کے بنو خدا کے۔ہم سب فانی ہیں اور وہی زندہ اور حاصل کرنے کے قابل ہے اس کا چہرہ دنیا کو دکھانے کی کوشش کرو۔اپنی زندگی کو اسی کے لئے کر دو۔ہرسانس اسی کے لئے ہو، وہی مقصود ہو، وہی مطلوب ہو، وہی محبوب ہو جب تک اُس کا نام دنیا میں روشن نہ ہو ، جب تک اس کی حکومت دُنیا میں قائم نہ ہو تم کو آرام نہ آئے ہم چین سے نہ بیٹھو۔153 حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی الوداعی نظم آپ کے سفر یورپ کے لئے روانگی پر حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے ایک دعائیہ نظم لکھی جس کے چند اشعار بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔