تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 253 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 253

تاریخ احمدیت۔جلد 23 253 سال 1965ء حضور نے لاہور ریڈیو اسٹیشن سے عراق کے حالات پر تبصرہ “ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔جسے دہلی اور لکھنو کے ریڈیو اسٹیشنوں سے بھی نشر کیا گیا۔مسجد احمد یہ کوئٹہ کی بنیا درکھی گئی۔حضور نے رؤیا بیان فرمائی جس میں بتایا گیا تھا کہ حضور کومستقبل میں ہجرت کر کے پہاڑوں کی وادی میں تنظیم کی غرض سے نیا مرکز قائم کرنا پڑے گا۔متعدد اہم شخصیات ( سر فریڈریک جیمز ، سری جی ہورد، مہاراجہ آف پٹیالہ وغیرہ) کی مرکز سلسلہ آمد، حضور سے ملاقات اور مقامی صنعتی اور تعلیمی اور تنظیمی اداروں کا معائنہ۔جنگ کے باعث بیرونی ممالک میں تبلیغ کی راہ میں مشکلات۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ صحابی حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کا انتقال۔جلسہ پر حضور نے قادیان کے غرباء کے لئے ملکی قحط کے پیش نظر غلہ کی تحریک فرمائی۔۱۹۴۲ء مصر کے علامہ محمود شلتوت کا فتویٰ وفات مسیح کے بارہ میں ہفتہ وار ” الرسالۃ میں شائع ہوا۔چینی مسلمانوں کی تنظیم نیشنل اسلامک سالویشن کے نمائندے شیخ عثمان کی قادیان آمد۔پٹنہ کے مشہور ادیب سید اختر احمد اور نیوی کی قادیان آمد اور اشتراکیت اور اسلام کے معاشی نظام کے متعلق حضور سے استفادہ۔قادیان کے اردگرد کے دیہات میں تبلیغی کوششیں تیز تر کی گئیں۔متعدد بزرگوں نے اعزازی طور پر پیغام حق کی اشاعت میں حصہ لیا۔حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب آف دکن نے صداقت اسلام اور صداقت احمدیت کے متعلق ساری دنیا کے مذاہب کو ایک لاکھ روپیہ کا انعامی چیلنج دیا۔(جو آج تک کسی نے قبول نہ کیا )۔ٹانگانیکا کے گورنر اور کمانڈرانچیف کو احمدیت کی تبلیغ۔١٩٤٣ء حضور نے وقف زندگی اسکیم برائے دیہاتی مربیان جاری فرمائی۔مقامی تبلیغ کے دائرے کو امرتسر، سیالکوٹ ، جالندھر اور ہوشیار پور کے اضلاع تک وسیع کیا گیا۔نائیجیریا میں لیگوس کے مقام پر مسجد احمدیہ کی تعمیر اور افتتاح۔