تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 252 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 252

تاریخ احمدیت۔جلد 23 252 سال 1965ء خلافت ثانیہ کی سلور جوبلی منائی گئی۔تین لاکھ روپیہ حضور کی خدمت میں جماعت کی طرف سے نذر کیا گیا جس سے حضور نے جماعتی ترقی کیلئے خلافت جو بلی فنڈ قائم فرمایا۔حضرت خلیفہ اسیح نے اپنے دست مبارک سے پہلی مرتبہ لوائے احمدیت اور لوائے خدام الاحمدیہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر لہرایا۔خدام الاحمدیہ کا علم انعامی پہلی دفعہ مجلس کیرنگ اڑیسہ نے حاصل کیا۔۱۹۴۰ء حضور کی قائم کردہ ہجری شمسی تقویم پہلی دفعہ الفضل میں شائع ہوئی۔اور پھر یہ کیلنڈر جماعت میں رائج ہو گیا۔یوپی اور سی پی میں احمدی علماء کے وفد نے خاص طور پر تبلیغ کی۔بمبئی ریڈیو سے حضور کی تقریر میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں“ نشر ہوئی۔بلا دعر بیہ میں لٹریچر کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دی گئی۔البشری کی وسیع اشاعت۔غیر مسلموں میں تبلیغ کیلئے ۳ مارچ کو یوم تبلیغ منایا گیا۔حضرت مولانا غلام حسن صاحب پشاوری نے خلافت ثانیہ کی بیعت کر لی۔نواب بہادر یار جنگ نے قادیان میں حضور کی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔قادیان میں اجتماعی وقار عمل کا سلسلہ شروع ہوا۔حضور اور بزرگان سلسلہ بھی اس میں شریک ہوئے۔اس نمونہ سے ساری جماعت میں ایک نئی فعالیت پیدا ہوئی۔چیف جسٹس آف انڈیا اور کمال یار جنگ ایجوکیشن کمیشن کی قادیان آمد۔مصیبت زدگان ترکی کی امداد۔حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل حلالپوری کا انتقال۔حضور نے مجلس انصار اللہ قائم کی۔پہلے صدر حضرت مولوی شیر علی صاحب تھے۔انگلستان میں پہلا مناظرہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک پادری سے کیا۔سرینگر میں احمدیہ مسجد کی تعمیر کا آغاز۔١٩٤١ء سلطان زنجبار کو احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔