تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 246
تاریخ احمدیت۔جلد 23 246 سال 1965ء حفیظ جالندھری کی قادیان آمد پر مجلس مشاعرہ ہوئی جس میں حضور نے بھی شرکت فرمائی۔حضور نشاط باغ میں خواجہ کمال الدین کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔سائمن کمیشن کی رپورٹ پر حضور کا تبصرہ شائع ہوا جسے بہت سراہا گیا۔نصرت گرلز سکول قادیان کا اجرا ( اس سکول کی ایک شاخ خصوصی دینی تعلیم کیلئے وقف کی گئی)۔آسٹریلیا میں جماعت احمدیہ کا پہلا جلسہ سالانہ۔قادیان میں سکھوں کا حملہ۔مذبح خانہ کا انہدام اور مسلمانان ہند کی طرف سے شدید احتجاج۔اس مقدمے میں مسلمانوں کی آئینی فتح۔ذبیحہ گائے کے موضوع پر حضور کا مکتوب ، ہند وسکھ اور مسلمان لیڈروں کے نام۔حضرت مولانا حافظ روشن علی صاحب کا انتقال پر ملال۔١٩٣٠ء مشہور مسلم لیگی لیڈرشوکت علی قادیان آئے۔حضور نے ”ندائے ایمان کے نام سے اشتہارات کا مفید سلسلہ شروع فرمایا۔ڈچ حکومت کی ہدایت پر سماٹرا کے ڈچ کونسل مسٹر انڈریاسا کی قادیان میں احمدیت کے مطالعہ کیلئے آمد۔اخبار ٹریبیون نے حضور کی وفات کی جھوٹی خبر شائع کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب نے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔اس سال سے لجنہ اماءاللہ کو جلس شوریٰ میں نمائندگی کا حق ادا کیا گیا۔سیاسی معاملات میں حضور کی طرف سے مسلمانوں کی راہنمائی اور سیاسی حلقوں میں مقبولیت۔مستریوں کے فتنہ کا عروج۔امرتسر سے دلآزار لٹریچر کی اشاعت، حضرت خلیفہ اسیح کا عدیم المثال صبر اور احباب جماعت کو صبر کی تلقین۔جماعت کی طرف سے حضور سے والہانہ عقیدت کا اظہار۔جماعت قادیان کی طرف سے ”مستریوں کو مباہلہ کی دعوت۔مقدمہ بلوہ قادیان کی سماعت۔١٩٣١ء مولا نا رحمت علی صاحب نے جاوا میں مشن قائم کیا۔