تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 245
تاریخ احمدیت۔جلد 23 245 سال 1965ء مشہور مسلمان را ہنما مولا نا محمد علی جوہر کی قادیان میں آمد۔حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کا انتقال۔جو سرخی کے چھینٹوں والے نشان کے گواہ تھے۔مستریوں کا منافقانہ حرکتوں کی وجہ سے اخراج اور ان کے ناپاک فتنے کا آغاز۔قادیان میں امتہ الحی لائبریری کا افتتاح ہوا۔حضور نے ہندوستان میں سائمن کمیشن کی آمد پر مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت تصنیف فرمائی۔شام میں مولانا جلال الدین صاحب شمس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔حضور نے جلسہ سالانہ پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کارنامے کے موضوع پر خطاب فرمایا۔اس جلسہ پر حضور کی حفاظت کا پہلی بار خاص انتظام کیا گیا۔شام میں السید منیر الحصنی جماعت میں داخل ہوئے جو بعد میں شام کے امیر ومر بی بنے۔۱۹۲۸ء حضور نے جامعہ احمدیہ کا افتتاح فرمایا۔حضور کی تجویز اور اپیل پر ہندوستان میں جلسہ ہائے سیرۃ النبی ﷺ کا آغاز۔حضور نے پہلی دفعہ ۴۵ کے قریب عربی اشعار کہے۔حیفا مشن (فلسطین) کا اجرا۔۱۸ دسمبر کو صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفہ ب (خلیفہ مسح الرابع ) کی ولادت ہوئی۔۱۹ دسمبر کو قادیان میں ریلوے لائن پہنچ گئی ( پہلی گاڑی پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور بزرگان جماعت امرتسر سے سوار ہو کر قادیان تشریف لائے اور دعاؤں سے افتتاح فرمایا )۔ہندی رسالہ ” شدھی سماچار کے خلاف شدید احتجاج۔١٩٢٩ء گورنر پنجاب کی خدمت میں ایڈریس اور احمد یہ تحریک سے تعارف۔حضور نے انقلاب افغانستان پر تبصرہ کیا اور مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی۔حضور نے اشاعت لٹریچر کے ضمن میں کتابوں کی قیمتوں میں کمی اور اخبارات کی توسیع کی طرف توجہ دلائی۔حضور کشمیر تشریف لے گئے اور اہل کشمیر کو اخلاقی ، پہنی اور روحانی تغیر پیدا کرنے کی دعوت دی۔