تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 221 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 221

تاریخ احمدیت۔جلد 23 221 سال 1965ء لائی کو بھی دیکھا، ان سب میں ماؤزے تنگ حیرت انگیز دماغی صلاحیتوں کا مالک ہے۔اس فقرہ کے بعد اچانک خاموشی چھا گئی۔اس کی نگاہیں ٹکٹکی باندھے ایک جانب دیکھ رہی تھیں۔میں نے دیکھا تو کارنس پر پڑی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی تصویر پر ان کی نگاہیں جمی ہیں جس کو غالباً شروع میں میرے گھر آ کر انہوں نے نوٹ نہیں کیا تھا۔میں نے ان کی محویت توڑتے ہوئے پوچھا، کیا ہوا۔کہنے لگے یہ سچ ہے کہ ماؤزے تنگ عظیم شخصیت ہے لیکن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ان کی زندگی میں ایک بار میری ملاقات ہوئی جس کو تا دم آخر نہ بھول سکوں گا، اس دماغ کا انسان روئے زمین پر ندیل سکے گا، افسوس نادر روزگار ہستی بہت جلد ہم سے جدا ہوگئی۔" عہد خلافت ثانیہ کی عظیم الشان ترقیات پر ایک نظر 139 66 جماعت احمدیہ کے مرکزی نظم و نسق اور عالمی وسعت اور بین الاقوامی نظام تبلیغ پر ایک طائرانہ نظر حضرت مصلح موعود خدا کی قدرتوں کا مجسم اور چلتا پھرتا نشان اور ایک عہد آفریں اور تاریخ ساز شخصیت تھے جو مطلع عالم پر صدیوں بلکہ ہزاروں سال کے بعد نمودار ہوتی ہے۔آپ نے ۱۴مارچ ۱۹۱۴ ء کو جب مسند خلافت پر قدم رکھا تو خلافت احمدیہ کے خلاف باغیانہ تحریک پورے زور سے اٹھ کھڑی ہوئی جس نے سلسلہ احمدیہ کا پورا نظام تہ و بالا کر کے رکھ دیا اور اس خدا کی پاک جماعت کی نتباہی اور بربادی کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔خلافت ثانیہ کے آغاز میں صدرانجمن احمدیہ کے مقتدرممبروں نے اپنی ایک متوازی انجمن بنالی تھی۔مرکزی خزانہ خالی ہو چکا تھا اور بیرون ہند کوئی با قاعدہ جماعتی مشن موجود نہیں تھا (اگر چہ حضرت فتح محمد سیال صاحب بطور پہلے مبلغ جولائی ۱۹۱۳ء میں لندن پہنچ چکے تھے ) ان حالات میں آپ نے ۱۲ را پریل ۱۹۱۴ء کی پہلی شوری میں قبل از وقت پیشگوئی فرما دی کہ میں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے کہ یہ میرا کام ہے کہ تبلیغ کروں۔میں جانتا ہوں کہ یہ بڑا ارادہ ہے اور بہت کچھ چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آوے گا۔۔۔۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود سے خود وعدہ کیا ہے کہ يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِی إِلَيْهِمْ تیری مددوه لوگ کریں گے جن کو ہم وحی کریں گے“ 140