تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 220
تاریخ احمدیت۔جلد 23 220 سال 1965ء صدر پاکستان محمد ایوب خان اور ایک لیبر لیڈر کے تاثرات حضرت مصلح موعود کے ایک صاحبزادے مرزا رفیق احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: ۱۹۶۲ء کا ذکر ہے مجھے گردہ کی شدید تکلیف ہوئی اور میرے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے کہا کہ ربوہ میں گرمی بہت ہے آپ مری چلے جاؤ، کیونکہ گرمی کا اثر بھی گردہ پر ہوتا ہے۔میں اس ڈاکٹری مشورہ کے بعد مری چلا گیا۔ان دنوں سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم بھی مری آئے ہوئے تھے۔میں نے ان کو خط لکھا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔میں نے اپنا تعارف بھی کروایا اور یہ بھی لکھا کہ یہ ملاقات جماعتی طور پر نہیں بلکہ میری ذاتی خواہش کے پیش نظر ہے۔چند دنوں کے بعد ان کا جواب آیا کہ آکر مل لیں۔ان کے دیے ہوئے دن اور وقت پر میں پریذیڈنٹ ہاؤس پہنچا۔میری ان سے تقریباً سوا گھنٹہ ملاقات رہی ، میں نے اس دوران میں انہیں حضور کی تصنیف ” دیباچہ تفسیر القرآن“ پیش کی جسے انہوں نے بڑے احترام سے قبول کیا اور چند منٹ اسے پڑھا اور پھر کہنے لگے : ” میں آپ کو حضور کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔۱۹۵۰ء میں اپنے کوئٹہ کے قیام کے دوران حضرت صاحب نے سٹاف کالج کے تمام افسران کی دعوت کی میں بھی مدعو تھا، چائے ختم ہوئی تو حضور تقریر کے لیے کھڑے ہوئے اور ابتداء اس طرح کی کہ پاکستان کو جغرافیائی اور فوجی نقطہ نظر سے کہاں کہاں سے اور کس طرح خطرہ ہوسکتا ہے۔میرے دل میں خیال آیا کہ اب تو وقت کا ضیاع ہو گا کیونکہ ایک مذہبی راہنما کو فوج کے نقطہ نظر کی کیا خبر اور خطرات کی نشاندہی سے کیا کام۔دراصل میں اپنے آپ کو اس علم کا ماہر سمجھتا تھا اس لیے طبیعت میں اکتاہٹ محسوس ہوئی لیکن جب انہوں نے یہ مضمون ختم کیا اور اپنی تقریر ختم کی تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ آج پہلے دن میں نے سٹاف کالج میں داخلہ لیا ہے۔جس شخص کو خدا نے ایساز بر دست دماغ دیا ہو اور غیر متعلقہ علوم میں اس کی دسترس اس غضب کی ہو، دینی علوم میں اس کے ادراک کا کیا عالم ہوگا۔“ اسی طرح مکرم صاحبزادہ صاحب لکھتے ہیں: ”ہمارے ایک احمدی دوست ڈاکٹر لطیف صاحب سرگودھا نے فرمایا ایک دفعہ ایک لیبر لیڈر میرے پاس آئے۔وہ ساری دنیا کا دورہ کر کے آئے تھے اوراپنے سفر کےحالات سنارہے تھے کہ میں امریکہ کے صدر نکسن سے بھی ملا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سربراہوں سے بھی ملاقات کی۔چواین