تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 5
تاریخ احمدیت۔جلد 23 5 سال 1965ء مشیر اعلیٰ (چیف سائنٹیفک ایڈوائزر ) ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق اقوام متحدہ کی مشاورتی کمیٹی کے ایک ممبر بھی ہیں۔یہ اعلیٰ اختیارات کا ایک ایسا ادارہ ہے جو یونیسکو، ڈبلیو ایچ او ڈبلیوایم او جیسے اقوام متحدہ کے تشکیل شدہ سائنسی اداروں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتا اور ان پر عملدرآمد کرتا ہے۔متعدد سائنسدانوں کے برعکس پروفیسر سلام دیگر مضامین خصوصاً تاریخ اور معاشیات نیز مذہبی علوم سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ان کا ڈرائنگ روم ایرانی طغروں اور قرآن پاک کی خوبصورت کتابت شدہ آیات سے سجا ہوا ہے۔ان کے ذاتی کتب خانے میں سائنسی اور فنی کتابوں کے علاوہ اسلامی تاریخ پر اردو اور انگریزی کی کتابیں نیز مذہب اور احادیث نبوی کی کتا میں موجود ہیں۔وہ علی اصبح اٹھتے اور اپنا بیشتر کام صبح کے اوقات میں کرتے ہیں۔اور ۹ بجے رات تک سو جاتے ہیں۔اپنے کام کے علاوہ ان کا کوئی مشغلہ نہیں ہے اور وہ کوئی کھیل نہیں کھیلتے لیکن ان کے فرصت کے لمحات کا بہترین مصرف قرآن پاک کا مطالعہ ہے وہ اکثر و بیشتر اپنے سائنسی مقالوں میں اس کا حوالہ دیتے ہیں۔وہ بہت زیادہ مذہبی رجحان کے آدمی ہیں۔اور سائنسی اور مذہبی کتابوں سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔اپنی پاکستانی بیوی کے ساتھ وہ خوشگوار اور مطمئن زندگی بسر کرتے ہیں ان کے تین لڑکیاں اور چار سالہ لڑکا ہے۔کلکتہ کے احمدیوں کا عزم حج ، بھارتی علماء کی فتنہ انگیزی اور اخبار ” صدق جدید اس سال بھارت میں سولہ احمدی احباب کو حج پر جانے کے لئے ویزہ نہ دینے کا ایک تکلیف دہ واقعہ سامنے آیا۔غیر احمدی شرفاء اور غیر متعصب افراد نے مخالفین کے اس فعل شنیع کو نہایت مکروہ قرار دیا اور مولا نا عبدالماجد دریا بادی جیسے غیر متعصب غیر احمدی عالم نے اس پر نہایت زور دار بے لاگ تبصرہ کیا۔تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی طرف سے حسب ذیل ایک اعلان اخبار بدر ( ۴ مارچ ۱۹۶۵ء) میں شائع ہوا کہ :۔کلکتہ سے یہ خوشکن اطلاع موصول ہوئی ہے کہ امسال وہاں سے سولہ احمدی افراد حج بیت اللہ شریف کا عزم رکھتے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے بیت اللہ شریف کے حج اور زیارت سے سرفراز فرماتا ہے اور اس کی برکات سے نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب احباب و خواتین کو خیر و عافیت کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچائے اور انہیں جملہ