تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 219 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 219

تاریخ احمدیت۔جلد 23 219 سال 1965ء حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر سکوں گا۔آپ بھی دعا کیا کریں کہ خدائے برتر مجھے جلد از جلد اس جماعت کا رکن بنائے۔آمین۔آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ صاحب کو جنت میں جگہ دے۔اور ان کے طفیل جماعت احمدیہ کو دنیا میں سرفراز کرے۔(آمین ثم آمین ) حید محمد ارشادخان لائکپور سی ایف این الیکٹریشن مشتاق احمد قریشی راولا کوٹ آزاد کشمیر می کنز انریشن ، ڈسٹرکٹ ۳۰۵ مغربی پاکستان کے زون چیئر مین ( زون نمبر ۲) لائل پور جناب محمد ارشاد خان صاحب سیدنا حضرت الصلح الموعود خلیفہ اسیح الثانی کے وصال پر گہرے غم والم اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مکتوب میں رقمطراز ہیں :۔محترم مدیر صاحب الفضل ربوہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت امام جماعت احمدیہ ( خدا تعالیٰ ان کی مقدس روح پر کروڑوں رحمتیں اور اربوں فضل نازل فرمائے ) آسمانِ انسانیت کے وہ درخشندہ و تابندہ قمر تھے کہ جن کے بغیر آج انسانیت تہی داماں و سربگر یہاں ہو کے رہ گئی ہے۔ایک موقعہ پر آپ نے نعرہ تکبیر، اسلام اور آقائے مدنی ﷺ کے بعد انسانیت زندہ باد کا نعرہ لگوایا تھا۔اور میرا ایمان ہے کہ اُسی روز سے انسانی بلند قدروں کا صحیح شعور قلوب میں زندہ ہوا اور یہی شعور و احساس آنے والی بے شمار نسلوں کے لئے روشنی کے مینار کا کام دیتا رہے گا۔حضرت اقدس کا ایک شعر آج بار بار زبان پر آیا ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی جالپٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پرواہ نہ کر آپ نے ایک بھر پور عملی زندگی گزارتے ہوئے واقعی طوفانِ حوادث اور حالات کے تھیٹروں کی کبھی پرواہ نہیں کی۔اور یہی وجہ ہے کہ آج جب میں نے اس جری قائد اور اس عظیم رہنما کے انتقال کی خبر سنی تو دل بے اختیار بھر آیا۔میری طرف سے ان سب دوستوں تک ہمدردی کا پیغام پہنچا دیجئے جو اس صدمہ کو اپنے دلوں کی دھڑکنوں میں محسوس کر رہے ہیں۔خدا حافظ۔