تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 214 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 214

تاریخ احمدیت۔جلد 23 214 سال 1965ء اسلام میں اختلافات کا آغاز“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔اس جلسہ میں پروفیسر صاحب نے آپ کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:۔حضرات ! عام طور پر قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی صاحب لیکچر کے لئے تشریف لائیں تو صدر انجمن حاضرین سے ان کا تعارف کرواتا ہے۔لیکن آج کے لیکچرار اس عزت ، اس شہرت اور اس پایہ کے انسان ہیں کہ شاید ہی کوئی صاحب نا واقف ہوں۔آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جنہوں نے تمام مذہبی دنیا اور بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچادیا تھا۔134- پروفیسر صاحب مذکور نے تقریر کے اختتام پر فرمایا:۔میں نے بھی کچھ تاریخی اور اق کی ورق گردانی کی ہے۔اور آج شام کو جب میں اس ہال میں آیا تو مجھے خیال تھا کہ اسلامی تاریخ کا بہت سا حصہ مجھے بھی معلوم ہے اور اس پر میں اچھی طرح رائے زنی کر سکتا ہوں لیکن اب جناب مرزا صاحب کی تقریر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ میں ابھی طفل مکتب ہوں اور میری علمیت کی روشنی اور جناب مرزا صاحب کی علمیت کی روشنی میں وہی نسبت ہے جو اس لیمپ (جو میز پر تھا) کی روشنی کو اس بجلی کے لیمپ کی روشنی سے ( جواو پر آویزاں تھا) ہے۔حضرات ! جس فصاحت اور علمیت سے جناب مرزا صاحب نے اسلامی تاریخ کے ایک نہایت مشکل باب پر روشنی ڈالی ہے وہ انہیں کا حصہ ہے اور یہاں بہت کم لوگ ہوں گے جو ایسے ادق باب کو بیان کر سکیں۔میرے خیال میں تو لاہور میں بھی ایسا کوئی شخص نہیں ہے۔۔۔میں خواہش کرتا ہوں کہ ایسے ایسے قابل انسان ہماری سوسائٹی میں ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسی زبر دست علمیت اور شخصیت کا انسان ہماری سوسائٹی کا ممبر بن جائے تو سوسائٹی کو چار چاند لگ جائیں گے۔“ ☆ آپ کے بارہ میں میاں سلطان احمد صاحب وجودی کے تاثرات بھی کچھ کم دلچسپی کے حامل نہیں وہ لکھتے ہیں :۔”مرزا بشیر الدین محمود احمد میں کام کرنے کی قوت حد سے زیادہ ہے وہ ایک غیر معمولی شخصیت کے انسان ہیں۔وہ کئی گھنٹوں تک رکاوٹ کے بغیر تقریر کرتے ہیں۔ان کی تقریر میں روانی اور معلومات زیادہ پائی جاتی ہیں۔وہ بڑی بڑی مضخیم کتابوں کے مصنف ہیں ان کو مل کر ان کے اخلاق کا گہرا اثر ملنے والوں پر ہوتا ہے۔تنظیم کا ملکہ ان میں موجود ہے وہ پچاس سال کی عمر میں کام کرنے کے لحاظ سے نو جوان معلوم ہوتے ہیں۔اور اردو زبان کے ایک بڑے سر پرست ہیں۔