تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد 23 215 سال 1965ء حضرت مولانا محمد علی جوہر نے اپنے اخبار ”ہمدرد“ میں لکھا:۔ناشکری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں، جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم تبلیغ و تجارت میں بھی انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمتِ اسلام کے بلند بانگ و در باطن پیچ دعاوی کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہوگا۔جن اصحاب کو جماعت احمدیہ قادیان کے اس جلسہ عام میں جس میں مرزا صاحب موصوف نے اپنے عزائم اور طریق کار پر اظہار خیالات فرمایا شرکت کا شرف حاصل ہوا ہے وہ ہمارے خیال کی تائید کئے بغیر نہیں رہ سکتے“۔مدیر سیاست فدائے ملت جناب سید حبیب صاحب نے اپنی اشاعت ۱۶ دسمبر ۱۹۳۰ء میں لکھا:۔مذہبی اختلافات کی بات چھوڑ کر دیکھیں۔تو جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے میدانِ تصنیف میں جو کام کیا ہے وہ بلحاظ ضخامت و استفادہ ہر تعریف کا مستحق ہے۔اور سیاسیات میں اپنی جماعت کو عام مسلمانوں کے پہلو بہ پہلو چلانے میں آپ نے جس عمل کی ابتدا کر کے اس کو اپنی قیادت میں کامیاب بنایا ہے وہ بھی ہر منصف مزاج اور حق شناس انسان سے خراج تحسین وصول کر کے رہتا ہے۔آپ کی سیاست کا ایک زمانہ قائل ہے۔اور نہرور پورٹ کے خلاف مسلمانوں کو مجتمع کرنے میں سائمن کمیشن کے روبرو مسلمانوں کا نقطہ نگاہ پیش کرنے میں مسائل حاضرہ پر اسلامی نقطہ سے مدلل بحث کرنے اور مسلمانوں کے حقوق کے متعلق استدلال سے مملو کتا بیں شائع کرنے کی صورت میں آپ نے بہت ہی قابل تعریف کام کیا ہے۔اسی طرح ایڈیٹر اخبار مشرق“ گورکھپور مولاناحکیم سید ابراہیم برہم نے لکھا ہے:۔” جناب امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں۔آپ ہی کی تحریک سے ورتمان پر مقدمہ چلایا گیا۔آپ ہی کی جماعت نے رنگیلا رسول کے معاملہ کو آگے بڑھایا۔سرفروشی کی اور جیل خانہ جانے سے خوف نہ کھایا۔آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہادر کو عدل و