تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 213 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 213

تاریخ احمدیت۔جلد 23 213 سال 1965ء تفسیر نہایت قلیل عرصہ میں لکھی جو تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہوئی۔سنا ہے کہ اس کا تیسرا ایڈیشن بلاک پر شائع ہورہا ہے۔بہر حال اس محنت شاقہ کے بعد آپ کی صحت پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ آپ اس کے بعد بستر علالت سے اٹھ نہ سکے اور بالآخرے، ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کی شب کو انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون آپ کی بے مثال شخصیت عالمگیر شہرت کی حامل تھی۔چنانچہ آپ کی وفات پر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک کے پریس نے بھی گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے جو آپ کی بلند پایہ عظمت کا واضح ثبوت ہے۔بعض زعمائے ملت کے تاثرات بالآخر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بعض مشہور زعمائے ملت و عمائد قوم کی چند آراء و تاثرات ہدیہ قارئین کر دی جائیں:۔ہ برصغیر ہند و پاکستان کے مشہور مسلم لیڈر اور شاعر حضرت مولانا ظفر علی خانصاحب ایڈیٹر ”زمیندار احرار کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کان کھول کر سن لوتم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے۔تمہارے پاس کیا دھرا ہے۔۔تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔۔مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے اشارے پر اس کے پاؤں پر نچھاور کرنے کو تیار ہے۔۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔مختلف علوم کے ماہر ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں اس نے اپنا جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔لا مصور فطرت شمس العلماء حضرت خواجہ حسن نظامی صاحب نے آپ کی قلمی تصویر 132 ان الفاظ میں کھینچی :۔اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی علمی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلئی جوانمردی کو ثابت کر دیا۔اور یہ بھی کہ مغل ذات کارفرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و فہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں یعنی دماغی اور فلمی جنگ کے ماہر ہیں۔☆ 1919ء میں لاہور میں مورخ اسلام پروفیسر سید عبدالقادر صاحب ایم۔اے کی صدارت میں مارٹن ہسٹاریکل سوسائٹی اسلامیہ کالج لاہور کا جلسہ منعقد ہوا۔اس میں خلیفہ صاحب نے