تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 205
تاریخ احمدیت۔جلد23 205 سال 1965ء اعلیٰ پایہ کی تھی۔کراچی میں آکر ان سے ملاقات بھی ہوگئی۔یہ ملاقات بین اسلامک اسٹیم شپ کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر مسٹر عبدالمجید اسمعیل (مرحوم) کے یہاں دعوت کے موقع پر ہوئی تھی۔مرزا صاحب بڑے پر مذاق اور متواضع بزرگ تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت بڑے عالم بھی تھے مگر ان کی ساری زندگی کافی ہنگامہ خیز رہی ہے۔۔مرحوم کی خلافت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے غیر ممالک میں اپنے مشن قائم کئے۔اور تبلیغ کی نئی راہیں نکالیں۔ان کے زمانہ میں دنیا کی متعدد زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی ہوا۔مرحوم خود بھی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ان کی موت ایک لحاظ سے بہت بڑا سانحہ ہے اور نقصانِ عظیم۔باوجود خلیفہ ہونے کے وہ بھی ہماری طرح اللہ کی مغفرت کے محتاج ہیں۔اور اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کی مغفرت فرمائے۔ان کے صاحبزادے مرزا ناصر احمد صاحب اور دیگر اعزا کی خدمت میں دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں“۔حیح ہفت روزہ لا ہور کا اداریہ "جس نے ہر سانس لیا دین محمد کے لئے“ 131 جناب ثاقب صاحب زیر وی مدیر لاہور نے ۱۵ نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں حسب ذیل اداریہ لکھا:۔اس ہفتے ۸ نومبر ۶۵ء ( بروز پیر ) کو ایک ایسی پاکیزہ روح اپنے قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملی۔دین ربانی (اسلام) کے ایک ایسے مخلص دردمند خادم اور انسانیت کے ایک ایسے بچے سر پرست نے اس دار فانی کو خیر باد کہا۔جس کے دل و دماغ عمر بھر اسلام ہی کے چہرے کی چمک دمک کو بڑھانے اور اُسی کی رعنائی و دلفریبی میں اضافہ کرنے میں کوشاں رہے۔وہ جاں نثار اسلام جو دنیا کے کسی بھی خطے میں نہ صرف ضعف دینِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) دیکھ نہ سکتا تھا۔ہر جگہ اس کا جھنڈا نصب کرنے کی فکر میں بھی رہتا تھا۔جس کا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا ،سونا اور جاگنا صرف اور صرف خدمت دین محمد اللہ کے لئے وقف تھا۔اور جس نے اسلام کے پرستاروں کی ایک چھوٹی سی جماعت کے دلوں میں خدمت دینِ متین کی ایسی شمعیں روشن کیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک نور اسلام کی تنویر لا زوال پھیل گئی اور اسلام کے