تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 206
تاریخ احمدیت۔جلد 23 206 سال 1965ء جیالے مجاہدوں نے تثلیث اور الحاد پر اس شان سے یلغار کی کہ باطل ہر محاذ پر حق سے پچھاڑ کھا کر بھاگنے لگا اور افریقہ کے پتے ہوئے صحراؤں سے لے کر یورپ و امریکہ کے رفیع الشان ایوانوں تک اسلام کے براہین قاطعہ کی عظمت اور ہیبت چھا گئی۔وہ بلند کردار انسان جو صحت و توانائی کے اعتبار سے کسی مضبوط اور مستحکم جتنے کا انسان نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی آواز کو ایسی گرج، گونج، تاثیر بلکہ سحر ودیعت فرمائے تھے کہ اس کے حق پرستانہ نعرے معاندینِ اسلام کولرزہ براندام کر دیتے تھے۔وہ صاحب علم روحانیت جوکسی یو نیورٹی کا فارغ التحصیل نہ تھا۔جس کے پاس کسی قسم کی نصابی علم کی کوئی سند نہیں تھی۔لیکن اُس کے دل میں اپنے دین کے لئے درد دیکھ کر انعام کے طور پر خدائے ذوالجلال نے اسے ایسا علم لدنی عطا کیا تھا اور اپنے کلام پاک ( قرآن کریم ) کے رموز و معانی سمجھنے اور سمجھانے کی ایسی معرفت اور صلاحیتیں عطا کی تھیں کہ وہ دنیا بھر کے علوم وفنون سے متعلق سوالات کا جواب اور دنیا و جہان کے علمی، سیاسی، اقتصادی صنعتی عنصروں اور اُلجھنوں کا حل قرآن کریم ہی سے پیش کرنے پر قادر تھا۔جسے ناز تھا تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا فہم عطا فرمایا ہے اور جو ہمیشہ اپنے رب کی اس عطا کو اپنا نایاب سرمایہ حیات تصور کرتا رہا۔وہ شیدائے اسلام جس نے ایک مختصر اور غریب جماعت کے دلوں میں اپنے رب کی رضا و خوشنودی کے حصول کی ایسی سچی تڑپ پیدا کی کہ وہ ہمہ وقت اس کے دین کے لئے اپنی ہر شے کو قربان کر دینے کے لئے مستعد رہنے لگی۔یہاں تک کہ افریقہ، یورپ اور امریکہ میں اسلام کے ایک سو کے لگ بھگ ایسے مستحکم تبلیغی واشاعتی مشن قائم ہو گئے جن کے ذریعہ مادیت پرست اور تعیش پسند ملکوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں ایسے انسان پیدا ہوئے جو آج صبح و شام اپنی مساجد کے بلند میناروں سے اللہ اکبر اور اشهد أن لا إله إلا الله کی بابرکت صدائیں بلند کرتے اور اٹھتے بیٹھتے محسن انسانیت سید ولد آدم حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔اسلام کا وہ فتح نصیب جرنیل جس نے اسلام کے مبلغوں کو دلائل و براہین قاطعہ کے جدید اسلحہ سے لیس کر کے اہل فرنگ اور الحاد پرستوں پر انہی کے مرغوب ہتھیاروں سے حملہ کیا اور پچھاڑا۔و غمگسار دین محمد اللہ جس کی راتوں کی نیند اور دنوں کا چین حرام ہو گیا تھا۔جب اس نے دیکھا کہ متحدہ ہندوستان کے علاقہ ملکانہ میں ہندو پر چارکوں اور آریوں نے شدھی کی تحریک سے کمزور طبائع