تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 204
تاریخ احمدیت۔جلد23 204 سال 1965ء نویس خواتین فرد فرد میری بیگمات سے ہی پوچھ کر دیکھ لیں۔میں نے اپنی شعوری زندگی میں بڑے بڑے مسلمان لیڈروں اور قائدین فکر کو بنیادی اسلامی نظریات کے متعلق معذرت کے انداز میں باتیں کرتے دیکھا ہے مگر خدا کی قدرت دیکھیے کہ مہذب اور متمدن دنیا کے مرکز لندن میں بیٹھ کر اپنے قول وفعل سے اسلامی نظریات کی مردانہ وار حمایت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی کے حصے میں آئی۔ان کا تیسرا کارنامہ جسے ان کا آخری پیغام سمجھا جانا چاہیے یہ ہے کہ انہوں نے اہل مذہب کو عام اس سے کہ وہ عیسائی ہوں ، یہودی ہوں، ہندو ہوں یا سکھ اس خطرے سے آگاہ کیا جو خدا پرستوں کو خدا کے نام سے بیزار تحریک کے ہاتھوں در پیش ہے۔انہوں نے پکار کر کہا اے خدا پرستو! اے خدا کو ماننے والو! خدائی مذہب کے سر پر جو مہیب خطرہ منڈلا رہا ہے وہ ایک ایسی تحریک کا بنیادی اصول ہے جو اپنے خطرناک ہتھیاروں سے مسلح ہو کر خدا پر ایمان کی بنیاد ہی کو ڈھا دینے پر آمادہ ہے۔اس تحریک نے تمہارے اندر اس حد تک نفوذ کر رکھا ہے کہ اب مسلمانوں کے بیٹے بیٹیاں مسلمان گھروں میں اور مسلمان کے دانشور مسلمانوں کی مجلسوں میں خدا ہی کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور جب خدا ہی کے وجود کا انکار ہو گیا تو نبوت شریعت کے نقوش کس طرح دلوں میں قائم رہ سکتے ہیں۔آؤ سب اہل مذہب لامذہبیت کے اس طوفان کا مقابلہ مل کر کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدا پر یقین رکھنے والے مرزا بشیر الدین محمود احمد کی اس آواز پر انکی زندگی میں کان دھرتے تو خدا جانے اس شخص کی قائدانہ صلاحیت اور قوت تنظیم اس خطرے کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کیسی کیسی مؤثر تجاویز کو جامعہ عمل پہناتی۔اے بسا آرزو کہ خاک شده المختصر ان کی زندگی ، ان کی وضع قطع ، ان کے لباس، ان کی تحریر و تقریر میں بے شمار خصوصیات ایسی تھیں جن پر اسلامی تحریک اور اسلامی معاشرہ بجاطور پر فخر کر سکتا ہے۔“ نامور صحافی ضیاء الدین احمد برنی کا خراج عقیدت 130 ملک کے نامور صحافی جناب ضیاء الدین احمد برنی نے ماہنامہ ”کتابی دنیا دسمبر ۱۹۶۵ء کے صفحہ نمبرا اپر حسب ذیل نوٹ سپر و قلم فرمایا:۔مرزا بشیر الدین محمود احمد کوئی پچپن سال پہلے کی بات ہے کہ سنگم تھیڑ دہلی میں میں نے مرزا صاحب کی پہلی اور آخری تقریرینی تھی۔مجمع بہت صاف ستھرا تھا۔اور تقریر بھی سورہ فاتحہ کی تفسیر سے متعلق تھی۔تقریر بہت