تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 3
تاریخ احمدیت۔جلد 23 3 سال 1965ء سادہ، ملنسار اور نیک دل پروفیسر عبد السلام کا تعلق پنجاب کی بھٹی برادری سے ہے۔ان کا خاندان مغربی پاکستان کے ایک چھوٹے سے وسطی قصبے جھنگ میں آباد ہوا۔آپ ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں سنتو کچھ داس میں اپنے نتھیال میں ۱۹۲۶ء میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۰ء میں پنجاب میٹرک امتحان میں جب وہ چالیس ہزار امیدواروں میں سر فہرست رہے تو یہیں ان کی صلاحیتوں کا سب سے پہلے اعتراف کیا گیا۔انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں جو انہوں نے اپنے قصبے کے کالج سے پاس کیا تھا وہ ایک بار پھر صوبے بھر میں اول آئے۔انہوں نے بیچلر آف آرٹس کی سند پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور ایک بار پھر سر فہرست رہے۔۱۹۴۶ء میں انہوں نے ریاضی میں ماسٹر آف آرٹس کی سند حاصل کی اور دوبارہ امید واروں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کئے۔انعام کے طور پر حکومت پنجاب نے انہیں ایک خصوصی تعلیمی وظیفہ دیا اور وہ اسی سال کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلستان روانہ ہو گئے۔۱۹۴۸ء میں انہوں نے ریاضی میں آنرز حاصل کیا اس کے بعد تین سالہ کام کو صرف ایک سال میں مکمل کر کے کیمبرج میں انہوں نے فزکس ٹرائی پوز (Tripos)‘ حاصل کی ( ٹرائی پوز سے مراد تین مضامین میں ڈگری ہے ) اور ۱۹۴۹ء میں طبیعیات اور ریاضی میں ڈبل فرسٹ“ بن گئے۔کیمبرج میں ایک سال کی تحقیق کے بعد ۱۹۵۱ء میں پرنسٹن (امریکہ) کے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی میں انہیں فیلوشپ دیا گیا۔یہاں انہوں نے پروفیسر اوپن ہیمر کے ہمراہ کچھ عرصہ کام کیا۔اسی سال وہ اپنے کالج سینٹ جانز واقع کیمبرج میں ” فیلو منتخب ہو گئے۔اگلے سال وہ پاکستان آگئے اور پنجاب یونیورسٹی میں انہیں شعبہ ریاضی کا پروفیسر اور صدر مقرر کر دیا گیا۔۱۹۵۴ء میں ریاضی کے لیکچرار کی حیثیت سے وہ کیمبرج واپس چلے گئے ۱۹۵۶ء تک اسی عہدے پر فائز رہے۔اس دوران میں ۱۹۵۵ء اور پھر ۱۹۵۸ء میں انہیں ایٹم برائے امن سے متعلق اقوام متحدہ کا نفرنس کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔جنوری ۱۹۵۷ء میں جب وہ محض ۳۱ سال کے تھے، امپیریل کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لندن میں پروفیسر کی حیثیت سے اپنا موجودہ عہدہ سنبھالنے کے لئے انہوں نے کیمبرج کو خیر باد کہہ دیا۔آج وہ جس عہدے پر فائز ہیں اسے پہلے اطلاقی ریاضیات کہا جاتا تھا لیکن بعد میں مناسب طور