تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 188 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 188

تاریخ احمدیت۔جلد 23 188 سال 1965ء تو نے اے فضل عمر ہم کو دیا درس حیات سیف حق تیری زباں تیرا قلم شاخ نبات جوئے کوثر ہر سخن ،سلک دُور ہر ایک بات تھی سراپا تیری ہستی پیکر عزم وثبات فیض صحبت سے تری کھلتے تھے اسرار نہاں تھی گریزاں تیرے دم سے جہل کی تاریکیاں جب تلک ہو گی صدا تہلیل اور تکبیر کی جب تلک محتاج ہو گی ہر دعا تاثیر کی جب تلک سنت ادا ہو گی یہاں شبیر کی اور محو سجدہ پیشانی جوان و پیر کی کارنامے تیرے پائندہ رہیں گے دہر میں تیرے فرمودات بھی زندہ رہیں گے دہر میں 124 مورخ کشمیر جناب کلیم اختر کا زبر دست خراج تحسین مورخ کشمیر جناب کلیم اختر نے حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ امسیح الثانی کی عظیم شخصیت کو زبر دست خراج عقیدت پیش کیا۔اور اس ضمن میں حسب ذیل مقالہ سپر قلم کیا:۔سیاسیات کشمیر کا بانی اور کشمیریوں کا محسن و غمگسار رہنما حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لیم ,, تو نے یہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کہئے؟ (غالب) دو کسی انسان کی عظمت و شوکت اور خلوص و انسانیت کا پتہ اُس وقت لگتا ہے جب وہ مشیت ایزدی کے مطابق اس بھری دنیا کو چھوڑ کر دور بہت دُور فلک کی نیلگوں وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔اور اُس جانے والے سے وابستہ افراد اُس کی زندگی کے نقوش کے درخشندہ چراغوں کی روشنی کو ڈھونڈتے بھی ہیں۔اور اس کے جلائے ہوئے چراغوں کی کو تیز تر کرنے کی سعی بھی کرتے ہیں۔وہ لوگ خوش بخت اور عظیم ہوتے ہیں جن کے بعد ان کے معتقدین اُسی تڑپ اور ولولے سے اُن کے مشن کو چلاتے ہیں۔اور میری ادنیٰ سی دانست میں میرزا بشیر الدین محمود احمد کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی عقل و فراست ، حکمت و تدبر اور محنت اور جرات سے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے عمر عزیز صرف کر دی۔میرزا بشیر الدین محمود احمد۔ایک فرقہ کے خلیفہ اور امام تھے۔انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی جماعت کی تنظیم و تربیت ، ضبط و نظم ، نشر و اشاعت کے لئے جو کچھ کیا ہے اُس سے انکار ممکن نہیں ہے۔گو