تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 187 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 187

شور ہے، میر کارواں اُٹھا؟ محفل ذکر و فکر ویراں ہے تاریخ احمدیت۔جلد 23 ذرے ذرے میں انتشار ہے چھن گئی کیا امانت کبری؟ 187 سال 1965ء آج آج؟ روح کونین بے قرار ہے آج قوم کی قوم سوگوار کل کی آنکھوں میں اشک شبنم ہیں گیسوئے روزگار برہم ہیں؟ آسماں تک اداس ہیں، گویا چاند تارے شریک ماتم ہیں راز گن محرم راز کن فکاں اُٹھا دین فطرت کا ترجماں اُٹھا عشق رسول رکھتا تھا؟ میکشی کے اصول رکھتا تھا ایل کا تارا تھا ثانی قبول رکھتا تھا پاک کی نشانی تھا تھا حبت پاک روح عزم و عمل کا فتویٰ ہے اک نئے دور کا ایک دانا فقیر تھا، ایک روشن ضمیر تھا، نہ رہا عام وہ بانی تھا کارواں کو خدا چھوڑ گیا کارواں کا امیر تھا، رہا 123 نذرحسین او۔ٹی۔لالیاں کا نذرانہ عقیدت نذرحسین صاحب او۔ٹی۔لالیاں لکھتے ہیں کہ: راقم امام جماعت احمدیہ (ثانی) سے ایک ملاقات کے دوران ان کے بلند اخلاق سے بہت متاثر ہوا۔اور ان کی بزرگانہ شخصیت کے ماتحت ان سے ایک دنیوی الجھن کے متعلق طالب دعا ہوا۔ان کی دعا سے وہ عقدہ لا نخل سلجھ گیا۔ان کی وفات پر اس نظم میں اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔کس لیے وقف الم ہے آج ربوہ کی زمیں ناصبور ومحو غم ہے آ ج ربوہ کی زمیں کس لیے نالہ بدم ہے آج ربوہ کی زمیں نوحہ خواں با چشم نم ہے آج ربوہ کی زمیں ہیں زبانیں دم بخود اظہار کی طاقت نہیں حکم قدرت سے مگر انکار کی طاقت نہیں ہے کہاں جو سیر روحانی کراتا تھا ہمیں اور معارف دین و دنیا کے بتاتا تھا ہمیں بہر تالیف قلوب اکثر بلاتا تھا ہمیں نصرتِ اسلام کے خطبے سناتا تھا ہمیں وادی ارواح میں خود آج محو سیر ہے ہر نشان زندگی جس کا نشان خیر ہے