تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 189 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 189

تاریخ احمدیت۔جلد 23 189 سال 1965ء ان کے لئے ان کا یہ کام مذہبی فریضہ، دینی عقیدہ اور ایمان کی حیثیت رکھتا تھا۔مگر دینی و مذہبی مصروفیات کے علاوہ انہوں نے ہندی مسلمانوں کی سماجی تعلیمی اور معاشرتی زندگی کے سنوارنے کے لئے جو کچھ کیا وہ لائق صد تحسین ہے۔میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ان میدانوں میں جو کچھ کیا ہے اس کی تحقیق اور اس کا جائزہ مجھ ایسے عامی کا کام نہیں ہے۔میں تو اس مختصر سے مضمون میں صرف اس عظیم المرتبت انسان کی جدائی کا سوگ اور غم منا رہا ہوں۔جس نے ہندوستان میں سب سے پہلے میری جنم بھومی (ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی محکومی و مظلومی کے خلاف آواز بلند کی۔نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اس کے لئے عملی جدوجہد کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی جو آج تاریخ کشمیر کا ایک درخشندہ اور روشن باب بن چکی ہے۔کشمیر کمیٹی کی تشکیل کشمیری عوام کے لئے جب بھی ہندوستان اور اب پاکستان سے آواز بلند ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ اس میں میرزا صاحب ( مرحوم و مغفور ) کا ہمیشہ عمل دخل رہا۔انہوں نے ۱۹۳۱ء میں تحریک حریت کشمیر کے آغاز سے بہت پہلے کشمیری عوام کی رستگاری کے لئے کوششیں کیں۔اور برطانوی حکومت کو مہاراجہ کشمیر کے ناروا مظالم و تشدد سے آگاہ کیا۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر کے مسئلہ آزادی کو غیر ممالک میں سب سے پہلے میرزا صاحب نے ہی پیش کیا۔یہ درست ہے کہ جماعت احمدیہ کی کتابوں اور حضرت میرزا غلام احمد صاحب کی تصانیف میں کئی مقامات پر کشمیریوں کی رستگاری اور آزادی کے واضح اشارے ملتے ہیں۔بلکہ انہوں نے کئی مقامات پر ایسی پیشگوئیاں بھی کی ہیں جن کی رو سے کشمیری عوام کی آزادی ضروری ہے۔چنانچہ انہی پیشگوئیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا تڑپتا ہوا دل عملی کام کے لئے مچلا۔آپ نے علامہ اقبال کی رفاقت سے کشمیر کمیٹی کی تشکیل کی۔اس میں ہندوستان کے چوٹی کے لیڈروں کو جمع کیا۔کشمیریوں کے لئے وظائف مقرر کئے۔رضا کاروں کی دیکھ بھال کا انتظام کیا۔کشمیر کے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو فکر معاش سے آزاد کیا اور میں ایک مصدقہ اطلاع کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتوں کو میرزا صاحب