تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 186 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 186

تاریخ احمدیت۔جلد 23 186 سال 1965ء ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے سارے ممالک میں جہاں جہاں کہ جماعت احمدیہ ( قادیانیہ ) کے مشن ہیں آپ کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھا گیا۔اس المناک حادثہ میں ہمیں آپ کے فرزند جناب مرز او سیم احمد صاحب ناظر امور عامه، دوسرے متعلقین اور افراد جماعت سے دلی ہمدردی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر جمیل عطا کرے اور مرحوم کو سایہ رحمت میں جگہ دے۔آمین۔سنگا پور پریس میں وفات کی خبر 121 سنگا پور کے ایک روز نامہ ملائشیا ملیالی (MALAYSIA MALAYALI) نے اپنی ۱۷ نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں حضرت مصلح موعود کے وصال کی خبر حسب ذیل الفاظ میں دی:۔احمد یہ مسلم روحانی لیڈر مرزا بشیر الدین محمود احمد جماعت کے مرکز ربوہ (پاکستان) میں ۸ نومبر کو وفات پا گئے ہیں۔جماعت کے نئے خلیفہ یا روحانی لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔مرزا صاحب احمد یہ جماعت کے بانی حضرت مرزا غلام احمد (صاحب) کے خاص موعود بیٹے تھے۔جو ااجنوری ۱۸۸۹ء کو قادیان پنجاب میں پیدا ہوئے۔اور ۱۹۱۴ ء کو اپنی جماعت کے دوسرے خلیفہ منتخب کئے گئے۔آپ اپنی خلافت میں تقریباً نصف صدی تک اپنی جماعت کی قیادت فرماتے رہے۔آپ کا اہم ترین کام یہ سمجھا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں مذہب اسلام کی تبلیغ کے کام کو دنیا بھر میں زمانہ کے موجودہ تقاضوں کے مطابق ایک نئے اسلوب اور جدید طریق پر کامیابی سے چلایا۔جناب دامن اباسینی کا نذرانہ عقیدت جناب دامن اباسینی صاحب گلار چی براستہ بدین ضلع حیدر آباد تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت بشیر الدین محمود احمد صاحب کا سانحہ ارتحال صرف جماعت احمدیہ کے لئے جگر خراش نہیں ہے بلکہ ان بیشمار ارباب نظر کے لئے بھی پیغام درد ہے جو ان کے افکار و اعمال سے ذہنی و روحانی فیضان حاصل کرتے تھے۔یقین کیجئے میں ایک غیر احمدی ہوں مگر ریڈیو پر حضور کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر چونک پڑا۔فرط جذبات سے فراموشی کا عالم طاری ہو گیا۔اس وقت ایک شاعر پر کیا گذرتی ہے۔اسے آپ کا دل جانتا ہوگا۔ساز روح کے تار جھنجھنا اٹھے۔ڈوبی ہوئی کے میں ایک ٹوٹا پھوٹا نغمہ اُبھرا۔جسے نذرِ عقیدت کے طور پر ارسال کر رہا ہوں۔“