تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 185
تاریخ احمدیت۔جلد 23 185 سال 1965ء محمود صاحب کی وفات حسرت آیات“ کے تحت حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔”ہم نے یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ سنی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ ۸ نومبر کی صبح کو اس جہان فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئے۔انا للہ و انا اليـه راجعون۔آپ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مجد دو مہدی چہار دہم کے فرزند تھے اور ایک جید عالم اور مفکر تھے۔تقریر کرنے میں شاید ہی کوئی آپ کا ثانی تھا یہاں تک کہ اسلام کا اقتصادی نظام اور اسلام کا نظام نو“ جیسے دقیق موضوعات پر ایک ایک ہی صحبت میں جو تقاریر ہوئیں وہ کتابی صورت میں شائع ہوکر مقبولِ عام ہو چکی ہیں۔آپ کے عالم و فاضل ہونے کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس سر ظفر اللہ خاں صاحب بھی آپ کے مریدوں میں سے ہیں اور انہی کے الفاظ میں آپ کی ذات صفات حسنہ کا ایک ایسا دلکش مجموعہ پیش کرتی ہے جس کا ایک شخص کے وجود میں ہونا بہت نادر ہے۔ظاہری اور باطنی علوم کا سر چشمہ بھی ہیں۔آپ تخیل اور عمل کے میدانوں کے یکساں شہسوار ہیں۔آپ کی زندگی کا بہت سا حصہ ذکر و فکر میں گذرتا ہے لیکن میدان عمل میں آپ ایک اولوالعزم اور جری قائد بھی ہیں۔لیکن افسوس آپ بھی وہیں چل دئیے جہاں ایک نہ ایک دن سبھوں نے چلنا ہے۔جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا ہر کشمیری دل سے مداح ہے کیونکہ تحریک حریت کشمیر میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے۔۱۹۳۱ء میں جب تحریک کشمیر شروع ہوئی تو آپ ہی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اولین صدر تھے اور یہ آپ ہی کی کوششوں کا ثمرہ تھا کہ تحریک پروان چڑھی اور اس کا غلغلہ چار دانگ عالم میں ہوا۔باوجود اس امر کے کہ ہم آپ کی جماعت میں شامل نہیں ہیں پھر بھی آپ روشنی کے آغاز ہی سے ۱۹۵۸ء تک برابر اس کا شوق سے مطالعہ فرماتے تھے۔آپ کی ولادت ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو ہوئی تھی۔۱۹۴۸ء میں قادیان سے ہجرت کرنے کے بعد آپ نے ضلع جھنگ میں ”ربوہ“ کے نام سے ایک نئی بستی بسائی تھی۔گزشتہ کچھ عرصہ سے آپ بیمار تھے اور بالآخر وہیں مولا سے جاملے۔آپ کی تجہیز و تکفین اطلاع کے مطابق 9 نومبر کی صبح کو ربوہ میں عمل میں لائی گئی۔