تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 184
تاریخ احمدیت۔جلد 23 میں درج کیا جاتا ہے:۔184 سال 1965ء کراچی ۸ نومبر مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمد یہ آج جماعت کے مرکز ربوہ میں وفات پاگئے۔موصوف کے دفن کرنے سے پہلے جماعت کے نئے خلیفہ (روحانی پیشوا ) کا جماعت کی طرف سے انتخاب کیا جائے گا۔مرزا صاحب موصوف کے مرید احمدی“ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔جو تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان میں ایک قابل قدر شخصیت سر محمد ظفر اللہ خاں ہیں جو اس وقت انٹرنیشنل عدالت کے جج اور قبل از میں یونائیٹڈ نیشنز جنرل اسمبلی کے صدر رہ چکے ہیں۔روزنامه سماج کٹک ۱۳ نومبر ۱۹۶۵ء جماعت احمدیہ پر غم کے بادل 119 کٹک (اڑیسہ) کے اڑیسہ زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ ”سماج کٹک میں حضور کے فوٹو کے ساتھ مندرجہ بالا عنوان سے ایک تفصیلی نوٹ شائع ہوا۔جس کا اردو تر جمہ مکرم مولوی سید محمد موسیٰ صاحب مبلغ سلسلہ نے ارسال فرمایا ہے۔جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے:۔جماعت احمدیہ کے لیڈر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ۸ تاریخ کو جماعت کے مرکز ربوہ میں رحلت فرما گئے۔آپ کی تدفین سے قبل جماعت احمدیہ کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر احمد منتخب ہوئے۔مرزا بشیر الدین محموداحمد کے مختصر سوانح حیات مرزا بشیر الدین محمود احمد مرزا غلام احمد صاحب کلنکی اوتار کے بڑے صاحبزادے تھے آپ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں قادیان کی سرزمین میں پیدا ہوئے اور ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء میں خلیفہ اُسیح الثانی منتخب کئے گئے۔آپ کی زندگی میں جماعت احمدیہ کو انتہائی ترقی حاصل ہوئی اور امریکہ، افریقہ، انگلینڈ، جرمنی ، سپین، انڈونیشیا، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ وغیرہ دنیا کے مختلف حصوں میں احمد یہ مشن قائم ہوئے۔رحلت کے وقت آپ کی عمرے ۷ سال کی تھی۔مکرم مولوی محمد موسیٰ صاحب نے یہ اطلاع دی ہے کہ اسی طرح کے نوٹ روزانہ مانتر و بھومی“ روزانه تنستر، روزانہ کلنگ میں بھی شائع ہوئے ہیں۔نیز اُڑ یہ زبان میں ریڈیو کے ذریعہ بھی حضور انور کی رحلت کی خبر نشر ہوئی۔حليه اخبار روشنی سرینگر۔نومبر ۱۹۶۵ء 120 اخبار روشنی سرینگرا انومبر میں بعنوان ” آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اولین صدر جناب مرزا بشیر الدین