تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 183 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 183

تاریخ احمدیت۔جلد 23 183 سال 1965ء عقیدے ان کے جیسے بھی ہوں قرآن و علوم قرآنی کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ان کا صلہ اللہ انہیں عطا فرمائے اور ان خدمات کے طفیل میں ان کے ساتھ عام معاملہ در گذر کا فرمائے۔علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح تبیین اور ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند وممتاز مرتبہ ہے“۔روزنامہ حقیقت لکھنو ، انومبر ۱۹۶۵ء امام جماعت احمدیہ کی رحلت مندرجہ عنوان کے تحت روز نامہ حقیقت لکھنو مجریہ نومبر میں جناب ایڈیٹر صاحب مکرم انیس احمد صاحب عباسی بی۔اے کا کوروی کا حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی رحلت اس اعتبار سے ایک بڑا سانحہ ہے کہ ایک بہت ہی قابل اور ممتاز ہستی بر صغیر سے اٹھ گئی۔مذہبی اختلافات سے قطع نظر مرزا صاحب مرحوم کی ذات بہت سی صفات کی حامل تھی۔ان کا تبحر علمی، حیرت انگیز ذہانت اور سیاسی فراست کا بہت سے ممتاز غیر احمدی افراد کو بھی اعتراف تھا۔چنانچہ آج سے تقریبا تمہیں سال قبل مرزا صاحب مرحوم نے یوپی کے دورہ میں ایک روز دن بھر خان بہادر حافظ ہدایت حسین صاحب ایم۔ایل۔سی بیرسٹر مرحوم کے یہاں کانپور میں قیام کیا تھا۔حافظ صاحب سے چند روز بعد جب ملاقات ہوئی تو راقم السطور نے ان کو مرزا صاحب کا بہت معترف پایا۔حافظ صاحب فرماتے تھے کہ ایسے قابل و فاضل دماغ لیڈ راگر مسلمانوں میں چند ہی پیدا ہو جائیں قوم کی حالت سنبھل جائے۔راقم السطور کو خود بھی کئی دفعہ مرزا صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اور ہر دفعہ وہ ان کی غیر معمولی قابلیت ، سیاسی بصیرت و فراست سے بہت متاثر ہوا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں وہ تمام جو ہر تھے جو ایک بڑے قائد میں ہونے چاہئیں۔مذہبی عقائد سے اختلاف رکھنے کی بناء پر کسی بڑی شخصیت کی اعلیٰ صفات اور اس کی قومی خدمات کی قدرو وقعت نہ کرنا بہت ہی افسوسناک کمزوری ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔روزنامہ ٹریبیون انبالہ۔۹ نومبر ۱۹۶۵ء جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا کی وفات 118- روز نامہ ٹریبیون انبالہ مورخہ ۶۵-۱۱-۹ میں مندرجہ عنوان سے جو خبر شائع ہوئی اس کا ترجمہ ذیل