تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 157 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 157

تاریخ احمدیت۔جلد 23 157 سال 1965ء کے پُر نور اور مبارک چہرہ کی آخری بار ایک جھلک نصیب ہو جائے۔ایسے احباب کو سمجھانے اور تسلی دینے میں کچھ وقت لگا اور جنازہ قصر خلافت سے (ظہر اور عصر کی باجماعت نمازوں کے بعد جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مسجد مبارک میں اکٹھی پڑھائیں ) ۲۰:۳۰ کی بجائے پونے تین بجے سہ پہر اٹھایا گیا۔قصر خلافت کے اندر سے جنازہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد اپنے کندھوں پر اٹھا کر لائے اور چار پائی پر رکھا۔جس کے ساتھ بہت لمبے لمبے بانس لگے ہوئے تھے تا کہ ہزاروں ہزار احباب بآسانی کندھا دینے کا شرف حاصل کر سکیں۔جنازہ کے قصرِ خلافت کے اندر سے باہر آنے کے بعد احاطہ قصر خلافت میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدیدا انجمن احمدیہ کے ناظر و وکلاء صاحبان اور ہر دو انجمنوں کے دیگر ارکان، افسران صیغہ جات، مبلغین سلسلہ، ممبران انجمن احمد یہ وقف جدید، امرائے اضلاع، مجالس عاملہ انصار اللہ و خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اراکین اور غیر ملکی طلباء نے جنازہ کو کندھا دینے کا شرف حاصل کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بھی قصر خلافت کے احاطہ میں تمام وقت جنازہ کو کندھا دیا۔جنازہ قصر خلافت کے غربی دروازہ سے محلہ دارالصدر غربی کی کوٹھیوں کی جانب سے باہر سڑک پر لایا گیا اور پھر نصرت گرلز ہائی سکول سے ملحق ٹیوب ویل والی سڑک پر پہنچا وہاں سے سیدھا دفاتر صدرانجمن اور تحریک کی درمیانی سڑک پر سے ہو کر بائیں جانب گول بازار میں سے گزرا اور فضل عمر ہسپتال کی بڑی سڑک پر سے ہوتا ہوا بہشتی مقبرہ پہنچا۔نصف میل کے اس راستہ کو چار بلاکوں (صدر بلاک، رحمت بلاک، برکات بلاک اور یمن بلاک) میں تقسیم کر کے سڑک کے دونوں طرف احباب کو جماعت وار کھڑا کیا گیا تھا اور یہ تمام راستہ قطار وار کھڑے ہوئے انسانوں سے پٹا پڑا تھا۔جنازہ کے آگے آگے حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد تھے۔دور و یہ کھڑے ہوئے احباب اس حال میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے بلند آواز سے درود شریف پڑھتے جاتے تھے۔اور جوں جوں جنازہ آگے بڑھتا جاتا تھا دو رویہ کھڑے ہوئے احباب ایک خاص نظام اور ترتیب کے ماتحت جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کرتے جاتے تھے۔لوگوں کی بے پناہ کثرت اور ان کی وارفتگی کے باعث جنازہ کو بار بار روک کر اور ترتیب بحال کر کے آگے بڑھنا پڑتا تھا اس طرح نصف میل کا یہ فاصلہ پونے دو گھنٹوں میں طے ہوا۔اس عرصہ میں ہزاروں ہزار افراد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لاکھوں لاکھ مرتبہ درود بھیجا اور مسلسل پونے دو گھنٹے