تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 158 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 158

تاریخ احمدیت۔جلد 23 158 سال 1965ء تک ربوہ کی فضا درود کی آوازوں سے گونجتی رہی۔نماز جنازہ اور ایک عہد کی تجدید جنازہ کے بہشتی مقبرہ پہنچنے پر مقبرہ کے وسیع وعریض احاطہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں ربوہ کے مقامی احباب سمیت ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے قریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی۔صرف مردوں کی ہی لمبی لمبی ے ے صفیں بنیں۔مستورات جو بہت کثیر تعداد میں بیرون جات سے ربوہ آئی تھیں۔نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئیں البتہ انہوں نے اپنے آقا کے چہرہ مبارک کی آخری زیارت کا شرف حاصل کیا۔صفوں کی ترتیب کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھانے سے قبل حضرت خلیفة المسیح الثانی کے جنازہ کے سامنے قبلہ رخ کھڑے ہوکر لاؤڈ سپیکر پر احباب جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں چاہتا ہوں کہ نماز جنازہ ادا کرنے سے قبل ہم سب مل کر اپنے رب رؤوف کو گواہ بنا کر اس مقدس مونہہ کی خاطر جو چند گھڑیوں میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہونے والا ہے اپنے ایک عہد کی تجدید کریں اور وہ عہد یہ ہے کہ ہم دین اور دین کے مصالح کو دنیا اور اس کے سب سامانوں اور اس کی ثروت اور وجاہت پر ہر حال میں مقدم رکھیں گے اور دنیا میں دین کی سر بلندی کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے رہیں گے۔اس موقع پر ہم اپنے ایک اور عہد کی تجدید بھی کرتے ہیں۔اگر چہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں یہ بہشتی مقبرہ قادیان کے بہشتی مقبرہ کے ظل کی حیثیت سے ان تمام برکات کا حامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُس بہشتی مقبرہ کے ساتھ وابستہ کی ہیں لیکن حضرت اماں جان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ اولا د جو پنجتن کہلاتی ہے اور ان میں سے جو وفات یافتہ یہاں مدفون ہیں اور خاندان کے دوسرے وفات یافتہ افراد بھی جن کا مدفن اس مقبرہ میں ہے ہم ان کے تابوتوں کو مقدر وقت آنے پر قادیان واپس لے جائیں گے اور ان تمام امانتوں کو جانوں سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہوئے اولین وقت میں ان جگہوں پر پہنچا دیں گے جن کی طرف وہ حقیقی طور پر اپنے آپ کو منسوب کرتے تھے اور جہاں انہیں پہنچانا ضروری ہے اور جس کا ہم نے عہد کیا ہوا ہے۔