تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 156
تاریخ احمدیت۔جلد 23 156 سال 1965ء جو علم و معرفت کا ایک بحر ذخار تھا جو علوم ظاہری و باطنی کا مخزن و معدن تھا۔جو قدرت اور رحمت اور قربت اور فضل اور احسان کا نشان تھا۔جسے خدا نے اپنے الہام خاص میں فتح و ظفر کی کلید قرار دیا اور فی الواقعہ جس نے اسلام کو دنیا بھر میں فتح یاب کر دکھایا۔جوستر سال تک تشنگان روحانیت کو سیراب کرتا اور ان کے دل و دماغ پر بڑی شان اور محبت و شفقت کے ساتھ حکمرانی کرتا رہا۔جس نے دنیا میں شرق سے لے کر غرب تک ایک عظیم الشان روحانی انقلاب برپا کر دکھایا۔منشائے خداوندی اور تقدیر الہی کے ماتحت اس جہانِ فانی سے ہمیشہ ہمیش کے لئے روپوش ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ نماز جنازہ سہ پہر کے وقت ۴ بجکر ۴۰ منٹ پر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثالث نے بہشتی مقبرہ کے وسیع وطویل احاطہ میں پڑھائی جس میں ربوہ کے مقامی احباب سمیت ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے قریب ۵۰ ہزار مومنوں نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔شمع احمدیت کے یہ پروانے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے وصال کی خبر سن کر کمال درجہ غم واندوہ ، اور بے تابی کے عالم میں اپنے جان و دل سے بڑھ کر عزیز آقا اور نہایت ہی مشفق و محسن اور عظیم روحانی باپ کے آخری دیدار کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے ملک کے کونہ کونہ سے دیوانہ وار کھینچے چلے آئے تھے۔ان کی آمد کا سلسلہ نماز جنازہ شروع ہونے تک مسلسل جاری رہا۔ہونٹوں پہ آہ سرد جبینوں پہ غم کی دھول آنکھوں میں سیل اشک چھپائے ہوئے چلا دن ڈھل چلا تو درد نصیبوں کا قافلہ کاندھوں پہ آفتاب اٹھائے ہوئے چلا آخری زیارت کا سلسلہ جو مورخہ ۸ نومبر بروز دوشنبه صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا تھا مورخہ ۹ نومبر کو اڑھائی بجے بعد دو پہر جنازہ اٹھانے کے وقت تک مسلسل ۳۱ گھنٹے جاری رہا کیونکہ آخر وقت تک احباب ریل گاڑیوں، موٹروں اور بسوں کے ذریعہ برابر ربوہ پہنچ رہے تھے۔آخر جنازہ اٹھانے کے مقررہ وقت یعنی ۲:۳۰ بجے بعد دو پہر آخری زیارت کے سلسلہ کو مجبوراً بند کرنا پڑا اور آخری وقت میں پہنچنے والے بہت سے احباب کو آخری زیارت کے شرف سے محروم رہنا پڑا۔اس موقعہ پر محرومِ دیدار احباب کی بے تابی اور اضطراب کی حالت قابل دید تھی وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے اور ڈیوٹی پر مقر را فراد کی منتیں کرتے بے حال ہوئے جا رہے تھے کہ انہیں اپنے جان و دل سے عزیز آقا