تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 155
تاریخ احمدیت۔جلد 23 155 سال 1965ء تمام احباب جماعت احمدیہ کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ آج مورخہ ۸ نومبر ۱۹۶۵ء بعد نماز عشاء مسجد مبارک ربوہ میں سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی مقرر کردہ مجلس انتخاب خلافت کا اجلاس بصدارت جناب مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلی صدر انجمن احمد یہ منعقد ہوا جس میں حسب قواعد ہر مہر نے خلافت سے وابستگی کا حلف اٹھایا اور اس کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ رتبہ کو آئندہ کیلئے خلیفہ اسی منتخب کیا۔اراکین مجلس انتخاب نے اُسی وقت آپ کی بیعت کی جس کے بعد آپ نے خطاب فرمایا اور پھر تمام موجود احباب نے جن کی تعداد انداز پانچ ہزار تھی رات کے ساڑھے دس بجے آپ کی بیعت کی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس انتخاب کومنظور فرما کر نہایت بابرکت فرمائے۔اس طرح ہم ایک دفعہ پھر ایک نازک دور میں سے گزر کر الوصیت کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے ہیں۔والحمد للہ سیکرٹری مجلس مشاورت“ جنازہ اٹھانے اور کندھا دینے کا منظر خلافت ثالثہ کے قیام کے اگلے روز ۹ نومبر ۱۹۶۵ء کو حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث نے بہشتی مقبرہ ربوہ کے وسیع احاطہ میں حضرت مصلح موعود کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں ربوہ اور پاکستان کے طول و عرض سے قریباً پچاس ہزار احباب نے شرکت کی جس کے بعد غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے ہزار ہا قلوب، غمناک و اشکبار آنکھوں اور عاجزانہ و دردمندانہ دعاؤں کے درمیان خدا کے اس مقدس اور موعود خلیفہ کا جسد اطہر سپردخاک کر دیا گیا۔اس کی خبر دیتے ہوئے اخبار الفضل نے تحریر کیا کہ:۔ر بوده انمبر سیدنا حضرت مرزا بشیرالدین محموداحم خلف اسی اثنا الصلح الموعود کا سد اطہر کل مورخہ ۹ نومبر ۱۹۶۵ء بروز سه شنبہ ساڑھے چھ بجے شام غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے ہزار ہا قلوب، غمناک واشکبار آنکھوں ، سوز و گداز سے معمور عاجزانہ و دردمندانہ دعاؤں کے درمیان بہشتی مقبرہ میں حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کے مزار اقدس کی چار دیواری کے اندر سپردخاک کر دیا گیا۔اس طرح وہ نہایت ہی مقدس و مطہر اور سراپا خیر و برکت وجود جس کی ولادت باسعادت ، خدمت اسلام کے محیر العقول کارناموں سے معمور زندگی اور خدائی مقدرات کے ماتحت جس کا وصال ان گنت اور مہتم بالشان خدائی نشانوں کا مظہر تھا بستر سال تک جس نے دنیا کو بے شمار فیوض و برکات سے نوازا،