تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 154 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 154

تاریخ احمدیت۔جلد23 154 سال 1965ء کھانا نہیں دیا۔یہاں تک کہ شام کو میں نے خود مانگ کر کھانا کھایا۔اس میں ایک سبق تھا کہ جس کو دنیا یتیم کہتی ہے مسکین کہتی ہے۔خدائے تعالیٰ کے بندے سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی حفاظت کریں اور ان کے نگران بنیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے عہد دہرانے اور دردمندانہ خطاب فرمانے کے بعد تمام اراکین نے بیعت کی اور کسی ایک فرد نے بھی تامل نہیں کیا۔الفاظ بیعت کے ہر جملہ دہرانے پر دردوکرب کے ساتھ ساتھ دلوں پر سکینت نازل ہورہی تھی ایک یقین اور قربانی کا جذبہ ابھر رہا تھا۔دل دھل کر پاک و صاف ہورہے تھے اور خدا کی جماعت بُنْيَانٌ مَّرْصوص (الصف:۵) کا نظارہ پیش کر رہی تھی۔اس موقعہ پر مجلس انتخاب کے ۲۰۶ را راکین حاضر تھے باقی ۳۵ را راکین پاکستان سے باہر ہونے کے باعث اور بعض بیمار و معذور ہونے کے باعث اجلاس میں ظاہری طور پر شامل نہیں ہو سکے۔یہ ساری کارروائی ساڑھے دس بجے شب تک ختم ہو گئی۔مسجد مبارک کے باہر ہزار ہا احمدی ماہی بے آب کی طرح منتظر تھے۔ان کا اصرار تھا کہ ان کو بھی بیعت کرنے کا ابھی موقعہ دیا جائے۔چنانچہ حضور کی اجازت سے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا گیا۔مسجد کھچا کھچ بھر گئی اور جملہ حاضرین نے پگڑیوں وغیرہ کو پکڑ کر الفاظ بیعت دہرا کر خلیفہ وقت کی بیعت کی۔پھر ایک لمبی اور پُر سوز دعا ہوئی اور مصافحہ وملاقات کے بعد جملہ احباب مسجد سے روانہ ہوئے۔ہر احمدی کا دل زخمی تھا مگر اس کے باوجود اس کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر سجدہ ریز تھی کہ اس نے محض اپنے فضل سے جماعت کو کامل اتحاد اور مکمل پیجہتی کی نعمت سے نوازا ہے اور دشمنانِ سلسلہ کی جھوٹی خوشیوں اور توقعات کو پامال کر دیا ہے۔فلله الحمد ربّ السموات ورب الارض و رب العالمین۔خلافت ثالثہ کا قیام اور جماعت احمدیہ کی اطلاع کے لئے اعلانِ عام مولوی عبدالرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری وسیکرٹری مجلس مشاورت کی طرف سے الفضل ۱۰نومبر ۱۹۶۵ء کے صفحہ اول پر نہایت جلی قلم سے حسب ذیل اعلان شائع کیا گیا:۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَ عَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُود خلیفہ اسیح الثالث کا انتخاب