تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 153
تاریخ احمدیت۔جلد 23 153 سال 1965ء ہم اس کو ترقی دیں اور اس میں کمزوری نہ آنے دیں۔اس بارے میں کل ایک دوست نے مجھ سے بات کرنا چاہی تو میں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے خاندان میں کوئی فرد اپنے مفاد کے لئے جماعت کے مفاد کو قربان نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کا ہر فرد خدا کا ہے مسیح موعود کا ہے جماعت کا ہے۔ہماری طرف سے کوئی کمزوری اور فتنہ نہ ہوگا۔پس اب خدا تعالیٰ نے جو یہ ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈالی ہے اور اس کام کے لئے آپ نے مجھے منتخب کیا ہے۔میں بہت کمزور انسان ہوں۔اس لیے آپ کا فرض ہے کہ آپ دعاؤں سے میری مدد کریں کہ خدائے تعالیٰ مجھے توفیق بخشے کہ میں اس ذمہ داری کو پوری طرح ادا کر سکوں اور خدمت دین اور اشاعت اسلام میں کوئی روک پیدا نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ کام ترقی کرتا چلا جائے حتی کہ دنیا کے تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے۔آپ مجھے اپنا ہمدرداور خیر خواہ پائیں گے کیونکہ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ہماری اسی طرح تربیت کی ہے۔میں چھوٹا تھا اور اب اس عمر کو پہنچا ہوں ہم نے یہی محسوس کیا کہ حضور کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میرے بچے دنیا کے لئے خیر کا منبع ہوں کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے۔اسی خواہش کا حضور نے اپنے ایک شعر میں یوں اظہار فرمایا ہے بے الہی خیر ہی دیکھیں نگاہیں پھر مجھے جو ماں ملی ( یعنی حضرت اماں جان ) جس نے میری تربیت کی ویسی ازواج مطہرات کے بعد ماں کسی کو نہیں ملی۔یعنی حضرت اماں جان۔وہ ایسی تربیت کرتی تھیں کہ دنیا کا کوئی ماہر نفسیات ایسی تربیت نہیں کر سکتا۔“ فرمایا۔” مجھے یاد ہے کہ ایک دو یتیم بچوں ( بہن بھائی ) کو حضرت اماں جان نے پالا تھا آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے نہلایا دھلایا اور ان کی جوئیں خود نکالیں۔مجھے وہ کمرہ بھی یاد ہے جہاں دستر خوان بچھا تھا اور جس پر حضرت اماں جان نے اپنے ساتھ ان بچوں کو کھانے کے لئے بٹھایا۔لیکن معلوم نہیں مجھے اس وقت کیا سوجھی کہ میں ان کے ساتھ نہ بیٹھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس دن مجھے حضرت اماں جان نے