تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 152 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 152

تاریخ احمدیت۔جلد 23 152 سال 1965ء میں بڑا ہی کم علم ہوں ، نا اہل ہوں، مجھ میں کوئی طاقت نہیں، کوئی علم نہیں۔جب میرا نام تجویز کیا گیا تو میں لرز اٹھا اور میں نے دل میں کہا کہ میری کیا حیثیت ہے پھر ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال آیا کہ ہمارے پیارے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی بہت سی نعمتوں اور برکتوں سے نوازا تھا فرمایا ہے۔کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں جب ہمارے پیارے امام نے ان الفاظ میں اپنے خدا کو مخاطب فرمایا ہے اور اس کے حضور اپنے آپ کو کرم خاکی قرار دیا ہے تو میں تو اس اپنے آپ کو کرم خاکی“ کہنے والے سے کوئی بھی نسبت نہیں رکھتا۔لیکن ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ میں بے شک نا چیز ہوں اور ایک بے قیمت مٹی کی حیثیت رکھتا ہوں لیکن اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ مٹی کو بھی نور بخش سکتا ہے اور اس مٹی میں بھی وہ طاقتیں اور قو تیں بھر سکتا ہے جو کسی کے خیال میں بھی نہیں آسکتیں وہ اس مٹی میں ایسی چمک دمک پیدا کر سکتا ہے جو سونے اور ہیروں میں نہ ہو۔غرضیکہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں اپنی کمزوریوں کو بیان کر سکوں۔اس لئے آپ دعاؤں سے میری مدد کریں۔جہاں تک ہو سکے گا میں آپ میں سے ہر ایک کی بھلائی کی کوشش کروں گا۔اختلاف تو ہم میں بھی ہوسکتا ہے۔لیکن اختلاف کو انشقاق اور تفرقہ اور جماعت میں انتشار کا موجب نہیں بنانا چاہیئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وفات کے وقت اور بعد میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ہر فرد نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم جماعت میں تفرقہ پیدا نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لئے جو قربانی ہمیں دینی پڑے ہم دیں گے۔یہ ہرگز نہ ہوگا کہ ہم اپنے مفاد کی خاطر جماعت کے مفاد کو قربان کر دیں بلکہ بہرصورت ہم جماعت کے مفاد کو مقدم کریں گے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو اللہ تعالیٰ نے بڑی کامیابی عطا فرمائی اور جو کام خدا تعالیٰ نے ان کے سپرد کیا تھا انہوں نے پوری طرح نبھایا۔اب ہمارا فرض ہے کہ