تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 151
تاریخ احمدیت۔جلد 23 151 سال 1965ء عجیب سماں اور نہایت پر کیف نظارہ تھا۔اپنے پیارے امام سید نا حضرت المصلح الموعود خلیفہ امسیح الثانی کی جدائی کے احساس سے دل زخمی تھے۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے مگر جماعتی اتفاق و اتحاد اور مومنوں کے قلوب کی اس یگانگت کو دیکھ کر کہ سب کے سب رکن منتخب خلیفہ کی بیعت کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔نفوس میں اطمینان پیدا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے نزول فرمارہے ہیں۔اب نہ کوئی اختلاف رائے تھا اور نہ کسی قسم کی کشمکش تھی۔ربیعت لینے سے پہلے منتخب خلیفہ کے لئے قواعد مقررہ کے مطابق ضروری تھا کہ وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے تجویز فرمودہ الفاظ ذیل میں قسم کھائے کہ :۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان لاتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لئے پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لئے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا“۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ اسح الثالث نے کھڑے ہو کر تشہد اور سورۂ فاتح کی تلاوت کے بعد رفت بھرے الفاظ میں اس عہد کو دہرایا۔عہد دہرانے کے بعد حضور نے فرمایا کہ:۔یہ ایک عہد ہے جو صمیم قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ یقین رکھتے ہوئے کہ وہ عالم الغیب ہے۔میں نے آپ لوگوں کے سامنے دہرایا ہے۔میں حتی الوسع تبلیغ اسلام کے لئے کوشش کرتا رہوں گا۔اور آپ میں سے ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا سلوک کروں گا۔چونکہ آپ نے مجھ پر ایک بھاری ذمہ داری ڈالی ہے اس لئے میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی اپنی دعاؤں اور مشوروں سے میری مدد کرتے رہیں گے کہ خدا تعالیٰ میرے جیسے حقیر اور عاجز انسان سے وہ کام لے جو احمدیت کی تبلیغ ، اسلام کی اشاعت اور توحید الہی کے قیام کے لئے ضروری ہے۔اور اپنی رحمت فرماتے ہوئے میرے دل پر آسمانی نور نازل فرمائے اور مجھے وہ کچھ سکھائے جو انسان خود نہیں سیکھ سکتا۔