تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 150 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 150

تاریخ احمدیت۔جلد 23 150 سال 1965ء ایسے شخص کو ووٹ نہیں دونگا جو جماعت مبایعین میں سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہو“۔پھر تلاوت قرآن مجید ہوئی جو محترم صدر مجلس کے ارشاد پر مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے کی۔بعد ازاں حضرت صدر مجلس نے سب حاضرین سمیت دعافرمائی اور پھر فرمایا کہ: ”ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ اسیح الثانی آج صبح دو بجکر بیس منٹ پر اپنے حقیقی مولا سے جاملے ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اب حضور کے بعد جانشینی کا سوال در پیش ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی زندگی میں انتخاب خلافت کے متعلق ایک ضروری ریزولیوشن مجلس مشاورت ۱۹۵۷ء نے پاس کیا تھا جسے حضور نے منظور فرماتے ہوئے مجلس انتخاب خلافت مقرر فرما دی تھی جس کے اراکین کی فہرست مطابق ریزولیوشن مرتب کر کے امراء جماعت احمدیہ کو بھجوادی گئی تھی۔آپ وہ اراکین مجلس انتخاب خلافت ہیں جن کا کام اپنے حلف کے مطابق جو آپ نے ابھی اٹھایا ہے نئے خلیفہ کا انتخاب کرنا ہے۔سواب آپ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھتے ہوئے جو امانت انتخاب خلیفہ کی آپ کے سپرد کی گئی ہے اسے پوری دیانت کے ساتھ ادا کریں اور اپنی رائے پیش فرمائیں۔اس مختصر مگر پر اثر خطاب کے بعد حضرت صاحب صدر نے انتخاب کرایا اور اراکین کی بہت بھاری اکثریت کی آراء کے مطابق حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ رتبہ کے خلیفہ ثالث منتخب ہونے کا اعلان فرمایا۔اس مرحلہ پر محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے صاحب صدر کی اجازت سے جماعتی اتحاد کی برکات اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے انتخاب میں خدائی ہاتھ کا ذکر کرتے ہوئے پُر اثر مختصر تقاریر فرمائیں۔اس موقعہ پر جملہ اراکین پر آسمانی سکینت کے نزول کا ایمان افروز منظر نظر آرہا تھا۔ہر دل اس انتخاب پر مطمئن تھا اور ہر زبان پر الحمدللہ کا کلمہ جاری تھا۔احباب نے اصرار فرمایا کہ حضرت خلیفہ اُسیح الثالث ابھی ہماری بیعت قبول فرما ئیں۔آپ اس وقت پچھلی صفوں پر مسجد کے شمالی جانب تشریف فرما تھے۔احباب کی درخواست پر آپ صدر مجلس ، سیکرٹری مشاورت اور محترم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب سلمہ رتبہ اور محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سلمہ رتبہ کی معیت میں مسجد مبارک کے محراب میں تشریف لائے وہ