تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 144
تاریخ احمدیت۔جلد 23 144 سال 1965ء تھے جس نے کرہ ارض کو کم و بیش ۵۲ برس تک منور اور خدا کی برکتوں سے معمور کئے رکھا۔خدائی مقدرات کے ماتحت یہ آسمانی وجود بظاہر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو کر مولائے حقیقی سے جاملا ہے لیکن اس کے انوار و برکات اب بھی جاری و ساری ہیں اور انشاء اللہ رہتی دنیا تک جاری وساری رہیں گے۔ذلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (الانعام: ۹۷) حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کا ایک نہایت اہم پیغام ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کی شب مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشاد نے ربوہ کی مسجد مبارک میں نما ز عشاء پڑھائی اور پھر حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا حسب ذیل پیغام پڑھ کر سنایا:۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج ہمارا محبوب آقا جو رحمت کا نشان تھا ، رحمت بن کر آیا۔رحمت بن کر رہا اور عالم کے گوشے گوشے میں جس کے دوران خلافت میں اس کی کوشش سے رحمت للعالمین ﷺ کا جھنڈا گاڑا گیا سلامتی کا پیغام پہنچایا گیا وہ مصلح موعود خلیفہ ہم سے جدا ہو کر اپنے پیارے اللہ تعالیٰ کے حضور میں سرخرو ہو کر حاضر ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہمارے دل غم سے بھر گئے ہیں۔یہ جدائی برداشت سے باہر نظر آتی ہے مگر یہ نازک وقت رونے سے بڑھ کر دعاؤں کا وقت ہے جماعت احمدیہ کے لئے یہ تیسرا زلزلہ ہے جو بوجہ کثرت جماعت اور قلت صحابہ کے، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ دیکھا اور صحبت اٹھائی تھی بہت بڑا ہے کیونکہ جب زمانہ گزرتا ہے الہی سلسلہ پھیل جاتا ہے تو بعض کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور اس وقت تو ہر وقت کے ناصح خلیفہ کی لمبی علالت بھی بعض غفلتوں اور کمزوریوں کو بیمار طبائع میں پیدا کرنے کی وجہ بن گئی۔اس وقت جبکہ آپ سب کے دل دردمند ہیں اور ایک اہم فیصلہ کا وقت ہے ہم سب کو اپنا دکھ بھول کر دعا میں لگ جانا چاہیئے اور صدق نیت سے اپنی کمزوریوں کا جائزہ لے کرسچا عہد خدا تعالیٰ سے کرنا چاہیئے کہ ہم اپنے قلوب کو صاف کریں گے اور نیک نمونہ احمدیت کا بننے میں کوشاں رہیں گے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش حضرت خلیفہ اول کی تمنا اور اس ہمارے تازہ زخم جدائی دے