تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 143
تاریخ احمدیت۔جلد 23 سیدھا کرے گا۔143 سال 1965ء اے میرے خدا! تُو اپنے ان بندوں کے ساتھ ہو۔جب انہوں نے میری آواز پر لبیک کہی تو انہوں نے میری آواز پر لبیک نہیں کہی بلکہ تیری آواز پر لبیک کہی۔اے وفادار اور صادق الوعد خدا اے وفادار اور سچے وعدوں والے خدا تو ہمیشہ ان کے اور ان کی اولادوں کے ساتھ رہیو اور ان کو کبھی نہ چھوڑ یو۔دشمن ان پر کبھی غالب نہ آئے اور یہ کبھی ایسی مایوسی کا دن نہ دیکھیں جس میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں سب سہاروں سے محروم ہو گیا ہوں۔یہ ہمیشہ محسوس کریں کہ تو ان کے دل میں بیٹھا ہے، ان کے دماغ میں بیٹھا ہے اور ان کے پہلو میں کھڑا ہے اللهم آمين۔۔۔۔خدا کرے کہ میری عدم موجودگی میں تم غم نہ دیکھو ہم سب خدا کی گود میں ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے پاس کھڑے ہوں“۔حضور پر نور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان بشارتوں اور مہتم بالشان آسمانی پیشگوئیوں کے بموجب ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام خاص سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر انکشاف فرمایا کہ آپ ہی مصلح موعود کی عظیم الشان پیشگوئی کے مصداق اور اولوالعزم فرزند موعود ہیں۔جس کے ذریعہ دنیا بھر میں غلبہ اسلام کی مہتم بالشان بشارتیں پوری ہونی مقدر ہیں۔ان پیشگوئیوں کے بموجب آپ ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو خلیفتہ اسیح الثانی کی حیثیت سے خلافتِ احمدیہ کی مسندِ جلیلہ پر متمکن ہوئے۔آپ کے ۵۲ سالہ عظیم الشان اور موعود عہد خلافت کا ہر دن اور ہرلمحہ اللہ تعالیٰ کے مہتم بالشان نشانوں غیر معمولی فضلوں اور رحمتوں اور برکتوں سے معمور رہا اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے بموجب اسلام کو چار دانگ عالم میں عظیم الشان فتوحات نصیب ہوئیں اور ساری دنیا نے اس امر کا مشاہدہ کیا کہ آپ واقعی ایک خدائی نور تھے جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔خدا کا سایہ ہر آن آپ کے سر پر رہا آپ جلد جلد بڑھے اور اسیروں کی رستگاری کا موجب بنے۔آپ نے زمین کے کناروں تک شہرت پائی اور دنیا کی قوموں نے آپ سے برکت پائی۔اور بالآخر آپ کے متعلق تمام آسمانی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے بعد آپ اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔دنیا نے دیکھ لیا اور اس امر کی گواہی دی کہ آپ واقعی ایک نہایت ہی بابرکت وجود اور آسمانی نور