تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 142 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 142

تاریخ احمدیت۔جلد 23 142 سال 1965ء نیز اس موقعہ پر ہم حضور پر نور کی انتہائی درد دل سے کی ہوئی ایک نصیحت اور دعا بھی احباب جماعت تک پہنچانا ضروری سمجھتے ہیں۔جو حضور نے ۱۹۵۵ء میں اپنی بیماری کے آغاز میں فرمائی تھی۔حضور نے فرمایا:۔ہر انسان جو پیدا ہوا ہے اس نے مرنا ہے۔ان گھڑیوں میں جب میں محسوس کرتا تھا کہ میرا دل ڈوبا کہ ڈوبا مجھے یہ غم نہیں تھا کہ میں اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں۔مجھے ی غم تھا کہ میں آپ لوگوں کو چھوڑ رہا ہوں۔اے میرے وفادار آقا! میں تجھے تیری ہی وفاداری کی قسم دیتا ہوں۔ان کمزوروں نے اپنی کمزوریوں کے باوجود تجھ سے وفاداری کی۔تو طاقتور ہوتے ہوئے ان سے بیوفائی نہ کیجیو۔یہ بات تیری شان کے شایان نہیں اور تیری پاکیزہ صفات کے مطابق نہیں۔میں ان لوگوں کو تیری امانت میں دیتا ہوں۔اے سب امینوں سے بڑے امین اس امانت میں خیانت نہ کیجیو۔اور اس امانت کو پوری وفاداری کے ساتھ سنبھال کر رکھی۔اے میرے عزیز و! تم سے کوتاہیاں بھی صادر ہوئیں تم سے قصور بھی ہوئے مگر میں نے یہ دیکھا کہ ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کی آواز پر تم نے لبیک کہا۔تم موت کی وادیوں میں سے گزر کر بھی خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتے رہے ہو۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں (اکیلا ) نہیں چھوڑے گا۔۔ہمارا خدا سچا خدا ہے، زندہ خدا ہے، وفا دار خدا ہے۔تم ہمیشہ اس پر تو کل رکھو اور اپنی اولا دکو بھی اس پر توکل رکھنے کی تلقین کرو میں نے ساری عمر جب بھی اس رنگ میں اخلاص کے ساتھ دعا کی ہے میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اُس دعا کے قبول ہونے میں دیر ہوئی ہو۔اگر تم اس رنگ میں اپنے رب سے محبت کرو گے اور اس کی طرف جھکو گے تو وہ ہمیشہ تمہاری مدد کے لئے آسمان سے اترتا رہے گا۔ایک دولت میں تمہیں دیتا ہوں ایسی دولت جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ایک علاج میں تمہیں بتاتا ہوں وہ علاج جو کسی بیماری میں خطا نہیں کرے گا، ایک عصا میں تمہارے حوالے کرتا ہوں ایسا عصا جو تمہاری عمر کی انتہائی کمزوری میں بھی تمہیں سہارا دے گا۔اور تمہاری کمر کو